واشنگٹن: ایران پر ممکنہ حملے اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر امریکا نے اسرائیل میں تعینات اپنے سفارتی عملے کو فوری انخلا کی ہدایت کردی ہے۔
اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے سفارتخانے کے عملے کو ای میل کے ذریعے آگاہ کیا کہ اگر وہ یا ان کے اہل خانہ ملک چھوڑنا چاہتے ہیں تو آج ہی روانگی کا انتظام کرلیں۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق غیر ضروری سرکاری عملے اور ان کے اہل خانہ کو رضاکارانہ طور پر اسرائیل چھوڑنے کی اجازت دی گئی ہے۔
عملے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بن گوریون ایئرپورٹ سے دستیاب پروازوں میں جلد از جلد نشست حاصل کریں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے بھی سیکیورٹی خدشات کے باعث سفری انتباہ جاری کرتے ہوئے غیر ہنگامی عملے کو ملک چھوڑنے کی اجازت دی ہے۔
ادھر برطانوی حکومت نے بھی ایران سے اپنا سفارتی عملہ واپس بلا لیا ہے اور اسے موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر عارضی اور احتیاطی اقدام قرار دیا ہے۔
ایران امریکا کشیدہ صورتحال کے باعث ڈچ ایئرلائن کے ایل ایم نے اسرائیل کیلئے پروازیں معطل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
دوسری جانب آسٹریلیا نے اسرائیل، لبنان، اردن، قطر اور امارات سے اپنے شہریوں کے انخلا کیلئے اقدامات شروع کردیے ہیں، جبکہ امریکا نے 6 مزید ایف 22 طیارے مشرق وسطیٰ روانہ کردیے ہیں تاکہ خطے میں اپنی فوجی تیاری کو مضبوط بنایا جاسکے۔
اسی تناظر میں فرانسیسی وزارت خارجہ نے اپنے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ فی الحال اسرائیل کا سفر موخر کریں اور وہاں موجود شہری مقامی حالات پر کڑی نظر رکھیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سفارتی عملے کی فوری روانگی اور اضافی فوجی اقدامات اس بات کا اشارہ ہیں کہ خطے میں سیکیورٹی صورتحال مزید بگڑنے کا خدشہ موجود ہے۔

