پاکستان کی سخت جوابی کاروائی: 24 گھنٹے میں ہی طالبان رجیم نے مذاکرات کی خواہش ظاہر کردی

اسلام آباد: افغانستان کی طالبان رجیم نے پاکستان کے ساتھ کشیدگی اور سرحدی جھڑپوں کے 24 گھنٹے مکمل ہونے سے پہلے ہی مذاکرات کی خواہش ظاہر کردی۔

افغان طالبان رجیم کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ افغانستان پہلے بھی امن کے لیے پاکستان سے مذاکرات پر زور دیتا رہا ہے اور موجودہ صورتحال میں بھی تنازع کا حل بات چیت میں ہی سمجھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کابل حکومت بارہا اس مؤقف کا اظہار کرچکی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مسائل کا پُرامن اور سفارتی حل تلاش کیا جانا چاہیے اور اب بھی یہی راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ افغانستان خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے اور پاکستان کے ساتھ مذاکرات کو ہی بہترین راستہ سمجھتا ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

دوسری جانب افغانستان کے نگران وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے قطری وزیر مملکت برائے خارجہ امور سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ قطری وزارت خارجہ کے مطابق گفتگو میں پاک افغان کشیدگی کم کرنے کے طریقوں اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

واضح رہے کہ سرحدی دراندازی کی کوششوں پر پاک فوج کی جانب سے بھرپور جوابی کارروائی کی گئی ہے، جس کے بعد خطے کی صورتحال پر عالمی سطح پر بھی نظر رکھی جارہی ہے۔