اسلام آباد: عطا تارڑ نے کہا ہے کہ افغانستان میں اس وقت غیرقانونی حکومت قائم ہے اور افغان طالبان نے زبردستی اقتدار پر قبضہ کیا ہوا ہے، افغان طالبان رجیم جبر اور غیرقانونی نظام پر مبنی ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغان طالبان رجیم دہشتگرد گروپوں کی پشت پناہی کرتی ہے اور افغانستان میں دہشتگردوں کو تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں حالیہ دہشتگرد کارروائیوں کیلئے افغان سرزمین استعمال کی گئی جبکہ اسلام آباد کچہری اور ترلائی حملے میں افغان باشندے ملوث تھے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے افغان جارحیت کا مؤثر جواب دیا اور متعدد چیک پوسٹوں پر قبضہ کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان رجیم مذہب کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کررہی ہے اور اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں خواتین، بچے اور اقلیتیں محفوظ نہیں ہیں، 13 سال کی عمر کے بعد لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی، ہائر سیکنڈری کے بعد داخلہ ممکن نہیں، خواتین کو ملازمت، پیشہ اختیار کرنے اور عوامی مقامات پر آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کے خلاف کارروائی کیلئے 3000 افراد پر مشتمل فورس قائم کی گئی ہے، جبکہ افغانستان میں 2026 میں جامعات بھی بند کردی گئی ہیں اور 18 سال کی لڑکیوں کو تعلیم کے بنیادی حق سے محروم کیا جارہا ہے۔ ان کے مطابق افغانستان میں 80 فیصد خواتین کو تعلیم سے دور رکھا گیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ افغان طالبان کے ضابطے عالمی قوانین کے منافی ہیں، وہاں ایلیٹ، مڈل کلاس اور دبے ہوئے طبقات کی تفریق موجود ہے اور غلامی جیسا نظام رائج ہے جو اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔

