جی ایچ کیو راولپنڈی میں وزیرِ اعظم کی عسکری قیادت سے ملاقات، افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کی کارروائیاں ناقابل قبول قرار

اسلام آباد: شہباز شریف نے جنرل ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں عسکری قیادت نے انہیں پاکستان افغانستان سرحدی صورتحال پر مفصل بریفنگ دی۔

تفصیلات کے مطابق وزیرِ اعظم کابینہ اراکین کے ہمراہ جی ایچ کیو پہنچے، جہاں پاک افغان کشیدگی اور سرحدی جھڑپوں کے تناظر میں تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔

وزیرِ اعظم نے واضح کیا کہ فتنہ الخوارج اور افغان طالبان رجیم کے گٹھ جوڑ اور شرپسند کارروائیوں کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کی پاکستان کے خلاف کارروائیاں کسی صورت قابل قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان ملک کی سلامتی کے لیے ہر دم تیار ہیں اور پاکستان کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

وزیرِ اعظم نے سرحدی علاقوں میں حملوں کو پسپا کرنے اور مؤثر جوابی کارروائی پر افواج پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پوری قوم ارض وطن کے دفاع کے لیے اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

دوسری جانب ترجمان پاک فوج کے مطابق طالبان رجیم کی 74 سے زائد پوسٹیں مکمل تباہ کر دی گئی ہیں جبکہ 18 پوسٹوں پر پاکستان کا کنٹرول ہے اور آپریشن غضب للحق جاری رہے گا۔