پاک افغان کشیدگی: خطے میں تناؤ کم کرنے کیلئے عالمی سفارتی کوششیں تیز

اسلام آباد: پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سرحدی کشیدگی کے تناظر میں چین، روس، قطر اور ایران نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کر دی ہے جبکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ چین پاک افغان کشیدگی پر تشویش رکھتا ہے اور صورتحال کو ٹھنڈا کرنے کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین اپنے سفارتی ذرائع کے ذریعے تنازع میں ثالثی کی کوشش کر رہا ہے تاکہ خطے میں استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ مناسب ہے کہ افغانستان اور پاکستان اختلافات کو بات چیت اور حسن ہمسائیگی کے اصولوں کے تحت حل کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران مذاکرات میں سہولت کاری اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک صبر اور اسلامی یکجہتی کا مہینہ ہے، اس لیے کشیدگی میں کمی ضروری ہے۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر سرحد پار حملے بند کریں اور اختلافات کو سفارتی ذرائع سے حل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان اور افغانستان درخواست کریں تو روس ثالثی کے کردار پر غور کر سکتا ہے۔ روسی وزارت خارجہ نے بھی بیان میں تحمل اور کشیدگی میں کمی کی ضرورت پر زور دیا۔

قطر نے بھی پاک افغان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے اور سفارتی ذرائع کے مطابق مختلف ممالک رابطوں کے ذریعے ممکنہ حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، طاقت کے استعمال سے گریز کریں اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری یقینی بنائیں۔

عالمی برادری کی جانب سے بڑھتی سفارتی سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ خطے میں استحکام اور امن کے قیام کے لیے مذاکرات اور سفارتی کوششوں کو ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔