اسلام آباد: دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان سے ہونے والے دہشت گرد حملوں کے خلاف حقِ دفاع میں ضروری اقدامات جاری رکھے گا اور ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں ترجمان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات مایوس کن ہیں۔ باجوڑ اور بنوں میں حملوں کے بعد پاکستانی کارروائیاں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر مرکوز رہیں۔ انہوں نے کہا کہ کابل میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا اور افغانستان سے سرگرم گروہ پاکستان میں حملوں میں ملوث ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان کو درپیش دہشت گردی کے خطرات سے مکمل آگاہی ہے، سیکیورٹی فورسز ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے چوکس ہیں اور تمام ادارے ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ افغانستان میں موجود پاکستانی سفارت کاروں اور شہریوں کی سلامتی ترجیح ہے اور اس حوالے سے افغان حکام سے رابطے میں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد اور دیگر شہروں میں افغان سفارت کاروں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے اور اسی سنجیدگی کا مظاہرہ افغان حکام سے بھی متوقع ہے۔
ترجمان نے کہا کہ رواں ماہ سمجھوتہ ایکسپریس حملے کی 19ویں برسی ہے جس میں 70 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ حملے میں ملوث افراد اعتراف کے باوجود انصاف کے کٹہرے میں نہیں لائے جا سکے اور بھارتی وزارت خارجہ کے حالیہ بیان کو مسترد کرتے ہیں۔
دوسری جانب نائب وزیراعظم اسحاق ڈار جدہ میں ہونے والے او آئی سی کے ہنگامی وزارتی اجلاس میں شرکت کریں گے، جہاں اسرائیلی قابض حکام کے اقدامات پر غور کیا جائے گا۔ ترجمان کے مطابق پاکستان مقبوضہ مغربی کنارے سے متعلق اسرائیلی فیصلوں پر اپنا مؤقف پیش کرے گا اور رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی ہوں گی۔

