تربت میں سلیم بلوچ کی ہلاکت، لاپتہ افراد کے بیانیے کے پیچھے فتنہ الہندوستان کی دہشتگردی بے نقاب

بلوچستان کے شہر تربت میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ کے دوران مبینہ دہشتگرد سلیم بلوچ کی ہلاکت کے بعد لاپتہ افراد کے بیانیے سے متعلق نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق سلیم بلوچ 31 جنوری کو بلوچستان میں ہونے والے حملوں میں ملوث تھا اور اس کا نام لاپتہ افراد کی فہرست میں بھی شامل بتایا جاتا رہا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کی ہلاکت کی تصدیق فتنہ الہندوستان اور بھارتی خفیہ ایجنسی را سے منسلک بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے بھی کی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق سلیم بلوچ تربت میں سیکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائی کے دوران مارا گیا۔ سکیورٹی حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ حالیہ دہشتگرد سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کر رہا تھا۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ماضی میں مستونگ، قلات اور گوادر میں مارے جانے والے بعض افراد بھی لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل رہے تھے۔ ان میں برہان بلوچ، حفیظ بلوچ، صہیب لانگو، کریم جان اور عبدالودود کے نام بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

دوسری جانب بلوچ یکجہتی کمیٹی اور بعض انسانی حقوق کی تنظیموں پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ لاپتہ افراد کے معاملے کو بنیاد بنا کر بیانیہ تشکیل دیتی رہی ہیں۔

ناقدین کا مؤقف ہے کہ اس بیانیے کو بعض اوقات ریاست مخالف سرگرمیوں کے جواز کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ شدت پسند عناصر نوجوانوں کو گمراہ کر کے انہیں مسلح کارروائیوں کی طرف مائل کرتے ہیں، تاہم بلوچستان میں دہشتگردی کے خلاف آپریشنز جاری رہیں گے اور ایسے نیٹ ورکس کو بے نقاب کیا جاتا رہے گا۔