پلان اے ناکام تو پلان بی تیار، ایران پر بڑے حملے کا امکان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کیین کے ایران پر امریکی حملے کی مخالفت سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی سختی سے تردید کر دی ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنرل ڈینیل کیین سے متعلق یہ رپورٹس کہ وہ ایران کے خلاف کارروائی کے حق میں نہیں، سراسر فیک نیوز ہیں اور ان میں کوئی صداقت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی خبریں 100 فیصد غلط ہیں اور اس معاملے میں حتمی فیصلہ وہ خود کریں گے۔

صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ ایران کے ساتھ معاہدے کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو ایران کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور وہ دن ایران کے لیے بہت برا ثابت ہوگا۔

دوسری جانب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے خلاف محدود ابتدائی حملے پر غور کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگر محدود کارروائی کے باوجود ایران نے جوہری پروگرام کے معاملے پر لچک نہ دکھائی تو ایک وسیع فوجی مہم بھی شروع کی جا سکتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ بڑے آپریشن کا مقصد ایران کی موجودہ حکومت اور اعلیٰ سیاسی نظام کو کمزور کرنا یا اقتدار سے ہٹانا ہو سکتا ہے۔ زیر غور اہداف میں پاسداران انقلاب کے مراکز، فوجی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، بیلسٹک میزائل تنصیبات اور جوہری ڈھانچہ شامل بتایا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پلان اے کے تحت ایران پر محدود حملوں کے ذریعے دباؤ ڈال کر معاہدے پر آمادہ کرنے کی حکمت عملی اپنائی جا سکتی ہے، جبکہ مطلوبہ نتائج نہ ملنے کی صورت میں رواں سال کے آخر تک وسیع تر کارروائی پر غور کیا جا سکتا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے وفود کے درمیان جمعرات کو جنیوا میں اہم ملاقات متوقع ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکا کی جانب سے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر مذاکرات میں شریک ہوں گے۔

امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے کا حتمی فیصلہ تاحال نہیں کیا، تاہم سفارتی کوششوں کے ساتھ عسکری آپشنز بھی زیر غور رکھے گئے ہیں۔