امریکی سپریم کورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف اقدامات کالعدم قرار دے دیے

واشنگٹن: امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی سطح پر نافذ کردہ ٹیرف کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ عدالت نے کہا کہ صدر نے ٹیرف عائد کرتے ہوئے اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کیا اور اس سے عالمی تجارت بری طرح متاثر ہوئی۔

عدالت نے واضح کیا کہ انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ صدر کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ کسی بھی ملک پر یکطرفہ طور پر ٹیرف عائد کرے۔ سپریم کورٹ میں 6 ججز نے فیصلہ حق میں دیا جبکہ 3 ججز نے اختلافی نوٹ لکھا۔

فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ شرمناک ہے اور دیگر ممالک خوشی منارہے ہیں، تاہم ان کے پاس ٹیرف کے لیے متبادل منصوبہ موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدالتی فیصلے کے باوجود قومی سلامتی سے متعلق تمام ٹیرف برقرار رہیں گے اور کسی ملک سے حاصل شدہ رقم واپس نہیں کی جائے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے صدر کے عالمی تجارتی ایجنڈے اور دیگر تجارتی معاہدوں پر اثر پڑ سکتا ہے، جبکہ امریکی کانگریس اور دیگر اقتصادی ادارے اس صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان سمیت متعدد ممالک پر ٹیرف عائد کیے تھے، اور یہ اقدام ان کے اقتصادی ایجنڈے کا بنیادی حصہ سمجھا جاتا تھا۔