غزہ پیس بورڈ کا کوئی متبادل نہیں، یہ یقینی بنائیں گے کہ اقوام متحدہ قابل عمل رہے، ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت غزہ پیس بورڈ کا پہلا باضابطہ اجلاس منعقد ہوا جس میں شہباز شریف سمیت مختلف ممالک کے سربراہان شریک ہوئے۔ اجلاس کا مقصد غزہ میں استحکام، تعمیر نو اور پائیدار امن کے لیے عالمی تعاون کو فروغ دینا قرار دیا گیا۔

افتتاحی خطاب میں امریکی صدر نے کہا کہ وہ غزہ کے عوام کے لیے روشن اور محفوظ مستقبل چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق اب تک 7 ارب ڈالر سے زائد کی امداد فراہم کی جا چکی ہے جبکہ امریکا تعمیر نو کے لیے 10 ارب ڈالر دے گا۔ انہوں نے بتایا کہ FIFA بھی غزہ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 75 ملین ڈالر جمع کرنے میں مدد کرے گا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ جلد انتونیو گوتریس سے بات کریں گے تاکہ اقوام متحدہ کو مؤثر اور فعال رکھا جا سکے۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ غزہ کے لیے امدادی فنڈ میں 2 ارب ڈالر جمع کر رہا ہے اور دیگر عالمی طاقتیں بھی اس میں شامل ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں امن سے بڑھ کر کوئی ترجیح نہیں، اور غزہ پیس بورڈ کو پائیدار امن کے قیام کے لیے ایک اہم اور مؤثر فورم بنایا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس موقع پر پاکستان کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کے عالمی رہنماؤں سے مضبوط تعلقات ہیں اور وہ تنازعات کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ سمیت مختلف خطوں کے نمائندے شریک ہوئے اور غزہ کی تعمیر نو، حکمرانی کے بہتر نظام اور شدت پسندی کے خاتمے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔