اسلام آباد: خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیاں طالبان اور بھارت کی پراکسی جنگ کا نتیجہ ہیں، اور پاکستان ضرورت پڑنے پر افغانستان میں فضائی کارروائی کرنے سے نہیں ہچکچائے گا۔
فرانسیسی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس افغانستان کے اندر کارروائی کا آپشن ہمیشہ موجود رہا ہے اور اگر کابل امن کی ضمانت دے تو تنازع کی ضرورت نہیں، تاہم ان کے بقول حملوں میں سرپرستی اور سازش کے شواہد موجود ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ دہلی، کابل اور دہشت گرد گروہ پاکستان پر حملوں میں ملوث ہیں اور کالعدم تنظیمیں جیسے تحریک طالبان پاکستان اور داعش افغانستان میں موجود ہیں، جہاں سے کارروائیاں کابل کی مرضی یا سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ اگر افغانستان میں موجود عناصر اپنی سرزمین کو دہشت گردی کیلئے استعمال ہونے سے روکیں تو کشیدگی کم ہوسکتی ہے، لیکن ان کے مطابق وہاں عملی کنٹرول رکھنے والوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے گروہوں کے خلاف کارروائی کریں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کیلئے دوست ممالک نے کوششیں کیں اور وہ استنبول، دوحہ اور کابل میں ہونے والی ملاقاتوں میں شریک رہے، تاہم ان کوششوں کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
مزید برآں، خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت کے ساتھ جنگ کا امکان اب بھی موجود ہے اور دونوں ممالک کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ رابطہ فی الحال نہیں۔

