متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ یمن میں تعینات اپنے باقی ماندہ انسدادِ دہشت گردی یونٹس کا مشن رضاکارانہ طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے وام کے مطابق، وزارتِ دفاع کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ حالیہ سیکیورٹی پیش رفت اور جامع جائزے کے بعد کیا گیا، جس کا بنیادی مقصد وہاں موجود اماراتی اہلکاروں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ یو اے ای نے 2019 میں یمن سے اپنی براہِ راست فوجی موجودگی ختم کر دی تھی، تاہم اس کے بعد صرف محدود اور خصوصی ٹیمیں انسدادِ دہشت گردی کے لیے تعینات تھیں، جو اب واپس بلائی جا رہی ہیں۔
وزارتِ دفاع کے مطابق، یہ اقدام خطے میں امن و استحکام کے لیے یو اے ای کے دیرینہ عزم کے عین مطابق ہے، اور امارات 2015 سے عرب اتحاد کے تحت یمن کی قانونی حکومت کی حمایت کرتا رہا ہے۔
واضح رہے کہ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کی صدارتی کونسل (پی ایل سی) کے سربراہ رشاد العلیمی نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے یمن میں موجود تمام اماراتی فورسز کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق، رشاد العلیمی نے یہ بھی کہا کہ یمن کی تمام بندرگاہوں اور زمینی و بحری راستوں پر 72 گھنٹوں کے لیے مکمل فضائی، زمینی اور بحری ناکہ بندی نافذ کی جا رہی ہے۔
یہ فیصلے اس وقت سامنے آئے جب سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے یمن کے جنوبی بندرگاہی شہر مکلا میں محدود فضائی کارروائی کی، جس کے بارے میں سعودی عرب کا مؤقف ہے کہ یہ یو اے ای کی حمایت یافتہ جنوبی علیحدگی پسند تنظیم سدرن ٹرانزیشنل کونسل (STC) کو فراہم کی جانے والی غیر ملکی عسکری معاونت کے خلاف کی گئی۔
سعودی وزارتِ خارجہ نے بھی بیان جاری کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ یمنی حکومت کے مطالبے کے مطابق 24 گھنٹوں کے اندر اپنی افواج واپس بلائے اور کسی بھی فریق کو عسکری یا مالی معاونت کا عمل فوری بند کرے۔
سعودی عرب نے الزام عائد کیا کہ یو اے ای یمن کے جنوبی علاقوں میں علیحدگی پسندوں کی حمایت کر کے نہ صرف یمن بلکہ سعودی قومی سلامتی کے لیے بھی خطرہ پیدا کر رہا ہے، جبکہ امارات نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں مایوس کن قرار دیا اور کہا کہ مکلا میں نشانہ بننے والی کھیپ ہتھیاروں پر مشتمل نہیں تھی بلکہ اماراتی فورسز کے لیے تھی۔
پس منظر کے طور پر یاد رہے کہ سعودی عرب اور یو اے ای 2015 میں یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف ایک ہی عرب اتحاد کا حصہ تھے، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ دونوں ممالک کی ترجیحات مختلف ہوتی چلی گئیں۔
سعودی عرب یمن کی وحدت اور مرکزی حکومت پر زور دیتا رہا، جبکہ یو اے ای نے جنوبی یمن میں سیکیورٹی، بندرگاہوں اور انسدادِ دہشت گردی پر توجہ مرکوز رکھی اور STC سے قربت اختیار کی۔
حالیہ مکلا واقعے، باہمی الزامات اور فیصلوں نے دونوں اتحادیوں کے درمیان اختلافات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے، جس کے خطے کی سیاست اور سلامتی پر دور رس اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

