کراچی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے پالیسی ریٹ میں 50 بیسز پوائنٹس کی کمی کر دی ہے، جس کے بعد شرح سود 11 فیصد سے کم ہو کر 10.5 فیصد پر آ گئی۔
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی سربراہی میں مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق نئی شرح سود آئندہ دو ماہ کے لیے نافذ العمل ہوگی۔
معاشی تجزیہ کاروں کی اکثریت توقع کر رہی تھی کہ شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا جائے گا، تاہم موجودہ معاشی اشاریوں، افراط زر کے دباؤ میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے کمیٹی نے غیر متوقع طور پر شرح سود کم کرنے کا فیصلہ کیا۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق، اس سے قبل مسلسل تین سے چار مانیٹری پالیسی اجلاسوں میں شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھی گئی تھی، جبکہ آخری بار مئی 2025 میں پالیسی ریٹ میں 100 بیسز پوائنٹس کی کمی کی گئی تھی۔
مرکزی بینک نے واضح کیا کہ مانیٹری پالیسی کا مقصد مہنگائی کو قابو میں رکھتے ہوئے معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا اور مالیاتی استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔
دوسری جانب، کاروباری حلقوں نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ شرح سود میں کمی سے صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کو ریلیف ملے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

