مئی میں پاک بھارت جنگ بڑا تصادم بن سکتی تھی، عالمی تنازعات امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں، اسحاق ڈار

اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں جاری تنازعات عالمی امن و استحکام کے لیے شدید خطرہ بنتے جا رہے ہیں، جب کہ رواں برس مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی چند گھنٹوں میں بڑے تصادم میں تبدیل ہو سکتی تھی۔

اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا اس وقت غربت، ناخواندگی، ناگہانی آفات، موسمیاتی تبدیلی اور سیاسی تنازعات جیسے بڑے چیلنجز سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنے مسائل کے پائیدار حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

وزیرِ خارجہ نے موسمیاتی تبدیلی کو خطے کے لیے سب سے بڑے خطرات میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ درجۂ حرارت میں اضافہ اور بار بار آنے والے تباہ کن سیلاب اقتصادی سرگرمیوں اور معاشی استحکام پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جنوبی ایشیا کا سکیورٹی منظرنامہ بھی تیزی سے پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے اپریل میں سندھ طاس معاہدہ کو یکطرفہ طور پر معطل کرنا خطے میں پہلے سے موجود تنازعات کو مزید بھڑکا رہا ہے۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حل نہ ہونے کو امن کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان، بھارت اور چین تین ایٹمی طاقتیں ہونے کے باعث جنوبی ایشیا انتہائی حساس خطہ بن چکا ہے، جب کہ اسلحے کی دوڑ، جدید جنگی ٹیکنالوجیز اور خطرناک عسکری نظریات اسٹریٹجک توازن کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہے ہیں۔

نائب وزیراعظم نے دنیا بھر میں بین الاقوامی قانون سے انحراف، طاقت کے استعمال کے بڑھتے رجحان، انتہا پسند نظریات، سیاسی پوپلزم، اسلاموفوبیا، ہائبرڈ وارفیئر اور گمراہ کن معلومات کی مہمات کو عالمی عدم استحکام کی بنیادی وجوہات قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ بلاک پالیٹکس کی مخالفت کرتا آیا ہے اور مذاکرات، تعاون اور سفارت کاری کو ہی پائیدار امن کا واحد راستہ سمجھتا ہے۔ اسحاق ڈار کے مطابق بطور منتخب رکن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (مدت 2025-26) پاکستان عالمی امن و سلامتی کے فروغ میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔