پاکستان ایئر فورس اکیڈمی رسالپور میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ پاک فضائیہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے کہا کہ معرکۂ حق میں پاکستان نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت، جدید جنگی حکمت عملی اور عددی برتری رکھنے والے دشمن کے مقابلے میں واضح برتری ثابت کی۔ انہوں نے کہا کہ 6 اور 7 مئی کی رات جب پاکستان کی خودمختاری کو چیلنج کیا گیا تو پاک فضائیہ نے کم وسائل کے باوجود دشمن کے جدید ترین لڑاکا طیارے، جن میں رافیل بھی شامل ہیں، مار گرائے۔
ائیر چیف کے مطابق، 10 مئی کو پاکستان نے دشمن کے ڈیفنس سسٹم کو بھی کامیابی سے نشانہ بنایا جبکہ آپریشن بنیان مرصوص نے ثابت کیا کہ پاکستان سائبر وارفیئر سمیت جدید جنگ کے تمام میدانوں میں مؤثر صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا نے اس سے پہلے اس نوعیت کی مربوط اور جرات مندانہ فضائی طاقت کا مظاہرہ نہیں دیکھا، یہی وجہ ہے کہ معرکے کی حکمت عملی پر بین الاقوامی سطح پر تحقیق بھی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے لیکن اگر دشمن نے دوبارہ ہماری قومی خودمختاری کو چیلنج کیا، تو وہ پاک فضائیہ کو پہلے سے زیادہ طاقتور، زیادہ تیار اور زیادہ خطرناک پائے گا۔ ائیر چیف نے کہا کہ تمام افواج اور قومی قیادت نے متحد ہو کر فیصلہ کن کردار ادا کیا جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بہترین قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
تقریب میں سعودی کیڈٹس کی شرکت کو پاکستان اور سعودی عرب کی مسلح افواج کے مضبوط تعلقات کا ثبوت قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئے پاس آؤٹ ہونے والے کیڈٹس مادر وطن کی فضائی سرحدوں کے محافظ ہیں اور قوم کی امیدیں ان سے وابستہ ہیں۔ فلائی پاسٹ، ایروبیٹکس اور پاس آؤٹ تقریب میں مجموعی طور پر پاکستان اور سعودی عرب کے 166 کیڈٹس نے گریجویشن مکمل کی۔

