راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں 29 روز بعد پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کی ملاقات ہوئی، جس کے بعد انہوں نے بتایا کہ عمران خان کی صحت الحمدللہ ٹھیک ہے تاہم وہ شدید غصے اور ذہنی دباؤ میں ہیں۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان اکیلے گیٹ نمبر 5 سے اڈیالہ جیل پہنچیں جہاں جیل حکام نے "ون پرسن، ون ملاقات” کے اصول کے تحت انہیں ملاقات کی اجازت دی۔ سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے جبکہ کارکنوں کی بڑی تعداد بھی جیل کے اطراف موجود رہی۔
29 روز بعد ملاقاتوں کی بحالی کے باوجود علیمہ خان اور بیرسٹر سلمان اکرم راجا کو جیل حکام نے اجازت نہیں دی۔ اڈیالہ روڈ پر دفعہ 144 نافذ رہی اور تعلیمی ادارے و دکانیں بند کروا دی گئیں۔
20 منٹ کی ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عظمیٰ خان نے بتایا کہ عمران خان نے شکایت کی ہے کہ انہیں قیدِ تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، بات چیت کی اجازت نہیں دی جاتی اور ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، عمران خان نے کہا کہ فزیکل ٹارچر سے زیادہ برا مینٹل ٹارچر ہوتا ہے، اس سب کا ذمہ دار ایک شخص ہے، وہ ذہنی مریض ہے جس کے کہنے پر یہ سب ہو رہا ہے۔
عظمیٰ خان کے مطابق، عمران خان نے پارٹی معاملات سے متعلق بھی اہم ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے کہا کہ سلمان اکرم راجا اور حامد خان جس کو جو ذمہ داری دیں گے، پارٹی انہیں مکمل سپورٹ کرے گی۔ مزید کہا کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو وہ اتحاد کے قائدین کے طور پر عزت دیتے ہیں، جبکہ تحریک کی ذمہ داری بھی انہیں دی گئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ عمران خان پارٹی کے ان لوگوں سے سخت ناراض ہیں جو "وکٹ کی دونوں جانب کھیل رہے ہیں” اور انہیں "میر جعفر اور میر صادق” قرار دیا ہے۔ عمران خان نے ملک میں دہشت گردی میں اضافے کی وجہ بھی ایک شخص کی پالیسیوں کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ "ایکسٹینشن مافیا، چینی مافیا اور لینڈ مافیا ملک کو غلام بنانے پر تُلے ہوئے ہیں، آزادی کیلئے عوام کو کھڑا ہونا پڑے گا۔”
واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے جیل حکام کو ملاقات کیلئے 6 وکلاء کی فہرست بھی ارسال کی تھی، تاہم مکمل منظوری نہ مل سکی۔
خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے پی ٹی آئی نے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا اعلان کیا تھا اور کارکنوں کو جیل پہنچنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔

