ایف بی آر نے فاٹا اور پاٹا کے صنعتی یونٹس کیلئے رعایتی درآمدات کا نیا ریگولیٹری طریقہ کار جاری کر دیا
اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سابقہ فاٹا اور پاٹا کے صنعتی یونٹس کے لیے دی گئی رعایتی درآمدات کی محفوظ اور ٹریک شدہ نقل و حرکت یقینی بنانے کے لیے نیا کسٹمز جنرل آرڈر جاری کر دیا ہے۔ یہ حکم نامہ پہلے سے نافذ کسٹمز جنرل آرڈر 01/2021 کے تسلسل میں جاری کیا گیا ہے۔
ایف بی آر کے مطابق، وفاقی حکومت نے پہلی بار 2018 میں فاٹا/پاٹا کے صنعتی یونٹس کو سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس میں خصوصی رعایتیں فراہم کی تھیں، جنہیں 2019 کے فنانس ایکٹ کے تحت باقاعدہ قانونی شکل دی گئی۔ تاہم دیگر علاقوں کے صنعتی کاروباری طبقے کے تحفظات کے باعث ایف بی آر نے 2021 میں ان درآمدات کو ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ بعد ازاں فنانس ایکٹ 2025 کے تحت مراعات کو جزوی طور پر واپس لیتے ہوئے مرحلہ وار 10 فیصد سیلز ٹیکس بھی متعارف کرایا گیا تھا۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ فاٹا/پاٹا کے بعض یونٹس نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جہاں عدالت نے انہیں کراچی پورٹ سے عارضی کلیئرنس کی اجازت دی۔ بعد میں عدالت نے ایف بی آر کو نیا طریقہ کار نوٹیفائی کرنے کی ہدایت کی، جس پر بورڈ نے کسٹمز جنرل آرڈر 08/2025 کے ذریعے نیا سسٹم جاری کر دیا ہے، جس سے ریگولیٹری فریم ورک ایک بار پھر فعال ہو گیا ہے۔
نئے حکم نامے کے تحت اب تمام رعایتی درآمدات کی کلیئرنس ازاخیل ڈرائی پورٹ کے ذریعے لازمی قرار دے دی گئی ہے، تاکہ ٹریکنگ، مانیٹرنگ اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکام کے مطابق اس فیصلے سے نہ صرف مراعات یافتہ درآمدات کی محفوظ نقل و حرکت ممکن ہوگی بلکہ دیگر صنعتوں کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات بھی دور ہو جائیں گے۔

