احتجاج کے خدشات پر اڈیالہ جیل کے اطراف ہائی الرٹ: پولیس کا خصوصی سیکیورٹی پلان، 700 سے زائد اہلکار تعینات
راولپنڈی میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر اڈیالہ جیل کے اطراف سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے، جبکہ پولیس نے غیر معینہ مدت کے لیے خصوصی سیکیورٹی پلان نافذ کردیا ہے۔ جیل کے داخلی راستوں اور اہم مقامات پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹا جاسکے۔
پولیس ذرائع کے مطابق، اڈیالہ جیل روڈ پر پانچ اضافی پولیس پکٹس قائم کی گئی ہیں، جن میں ناکہ داہگل، گیٹ ون، گیٹ فائیو، فیکٹری ناکہ اور گورکھ پور شامل ہیں۔ تمام پوائنٹس پر بھاری نفری 12، 12 گھنٹے کی دو شفٹوں میں ڈیوٹی انجام دے گی۔ اس سیکیورٹی پلان میں 12 تھانوں کے ایس ایچ اوز کے ساتھ خواتین پولیس اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔
مجموعی طور پر اڈیالہ جیل کی بیرونی سیکیورٹی کے لیے آر ایم پی فورس، پنجاب کانسٹیبلری اور مقامی تھانوں کے عملے سمیت 700 سے زائد افسران و اہلکار تعینات رہیں گے۔ سیکیورٹی پر موجود اہلکار اینٹی رائٹ سامان، ربڑ بلٹس، ٹیئر گیس، ڈنڈے اور شیلڈز سے لیس ہوں گے۔
جیل کے اطراف ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے ٹریفک پولیس کے دس افسران و اہلکار بھی تعینات کر دیے گئے ہیں جن کے ساتھ لفٹر بھی موجود ہوگا۔ قیدی وینز بھی الرٹ رہیں گی جبکہ اڈیالہ گارڈز کی نفری کچہری ڈیوٹی کے بعد اسٹینڈ بائی پر رہے گی۔ سیکیورٹی پلان کی براہ راست نگرانی ایس پی صدر انعم شیر کریں گی۔
خیال رہے کہ سیکیورٹی الرٹ اس وقت بڑھایا گیا ہے جب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات نہ کرائے جانے پر پارلیمانی کارروائی روکنے اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے احتجاج کی دھمکی دی ہے۔
واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔

