شہباز شریف کی بحرینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت

وزیراعظم شہباز شریف نے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بحرینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بحرین کے درمیان برادرانہ تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور مختلف شعبوں میں شراکت داری وقت کی ضرورت ہے۔

خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ دورۂ بحرین کا بنیادی مقصد معاشی تعاون کو وسعت دینا ہے۔ انہوں نے زراعت، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، فِن ٹیک اور جدید کاروباری شعبوں میں مل کر آگے بڑھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پاس نوجوان افرادی قوت، اسٹریٹیجک محلِ وقوع اور ابھرتی ہوئی مارکیٹ موجود ہے جبکہ بحرین مالیاتی مہارت اور عالمی تجربے سے مالا مال ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نجی شعبے کی قیادت میں معاشی اصلاحات کے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے اور سرمایہ کاری کے خواہشمندوں کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے بحرینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں مشترکہ منصوبوں، سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون کے لیے آنے کی دعوت دی اور یقین دہانی کرائی کہ حکومت انہیں ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے تقریباً 60 فیصد نوجوان 15 سے 30 سال کی عمر کے درمیان ہیں اور انہیں جدید مہارتوں سے آراستہ کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اور بحرین مل کر نئی معاشی راہیں کھول سکتے ہیں۔

تقریب سے خطاب میں وزیراعظم نے بحرینی قیادت کی جانب سے شاندار مہمان نوازی اور تاریخی استقبال پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کو ’’دو جسم نہیں بلکہ دو روحیں اور ایک دل‘‘ قرار دیا اور کہا کہ باہمی احترام اور ثقافت پر مبنی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ بحرین میں مقیم پاکستانیوں نے گزشتہ مالی سال کے دوران 484 ملین ڈالر کی ترسیلات زر پاکستان بھجوائیں، جو دونوں ممالک کے تعلقات کا ثبوت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور جی سی سی کے درمیان فری ٹریڈ معاہدہ حتمی مراحل میں ہے، جس کے نتیجے میں باہمی تجارت نئی بلندیوں تک پہنچے گی۔ شہباز شریف نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان اور بحرین مستقبل میں مشترکہ کامیابیاں حاصل کریں گے۔