سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے بڑا سانحہ ٹال دیا، ایف سی ہیڈکوارٹر پر دہشتگردوں کا حملہ پسپا، تین دہشتگرد ہلاک، تین جوان شہید
پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر ہونے والا خودکش حملہ سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور جرات مندانہ کارروائی کے باعث ناکام بنا دیا گیا۔ حملے میں تینوں دہشتگرد مارے گئے جبکہ ایف سی کے تین اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔
تفصیلات کے مطابق، پہلا خودکش حملہ آور صبح 8 بجکر 11 منٹ پر مرکزی گیٹ کے قریب پہنچا اور خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ دھماکے کے فوراً بعد دو دیگر دہشتگرد اندر گھسنے کی کوشش میں تھے، تاہم فورسز نے فوری آپریشن کرتے ہوئے دونوں کو موقع پر ہلاک کر دیا۔
دھماکے کے بعد پولیس، ایلیٹ فورس، ریسکیو 1122 اور سیکیورٹی اہلکار بڑی تعداد میں جائے وقوع پر پہنچ گئے۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق، حملہ آوروں نے پیدل ہیڈکوارٹر تک رسائی حاصل کی اور تمام نے خودکش جیکٹس پہن رکھی تھیں۔ اس وقت اندر پریڈ جاری تھی جہاں 450 اہلکار موجود تھے۔ فورسز کی ہائی الرٹ سکیورٹی اور بیریئرز نے حملہ آور کو اندر تک پہنچنے سے روک دیا، جس سے بڑا سانحہ ٹل گیا۔
ریسکیو 1122 کے مطابق، 6 ایمبولینسز، فائر وہیکل اور ڈیزاسٹر وہیکل جائے وقوع پر روانہ کیے گئے، 11 زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کیا گیا۔ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور زخمیوں کی حالت تسلی بخش بتائی جا رہی ہے۔
حادثے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دھماکا بالکل مرکزی گیٹ پر ہوا اور زور دار دھماکے کے بعد بھگدڑ مچ گئی۔ دو حملہ آور دھماکے کے فوراً بعد اندر داخل ہونے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں جنہیں سیکیورٹی اہلکاروں نے مار گرایا۔
صدر آصف علی زرداری نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہدا کے اہلِ خانہ سے تعزیت اور زخمیوں کیلئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ "یہ حملہ بیرونی پشت پناہی رکھنے والے خارجی دہشتگردوں کی بزدلانہ کارروائی ہے۔”
وزیراعظم شہباز شریف نے سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ "ہم بڑے نقصان سے محفوظ رہے، دہشتگردی کے خاتمے کیلئے ریاست پرعزم ہے۔”
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے بھی حملہ ناکام بنانے پر ایف سی کے بہادر جوانوں کو سلام پیش کیا۔
تحقیقات کے مطابق، دہشتگردوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت پریڈ کو نشانہ بنانا تھا۔ سیکیورٹی کی سختی اور فورسز کی مزاحمت نے انہیں ہیڈکوارٹر کے اندر گہرائی تک پہنچنے سے روک دیا۔ تینوں حملہ آور پیدل آئے اور خودکش جیکٹس سے لیس تھے۔
سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن مکمل کر لیا ہے۔

