پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک اہم بریفنگ میں زور دیا کہ پاکستان بطور ریاست ہمیشہ ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرتا ہے اور جب بھی کوئی کارروائی کرتا ہے تو اعلانیہ اور صرف دہشتگردوں کے خلاف کرتا ہے، کبھی بھی شہریوں کو نشانہ نہیں بناتا۔
انہوں نے بتایا کہ افغانستان سے متعلق پاکستان کا مؤقف مکمل طور پر واضح ہے کہ خون اور تجارت ایک ساتھ نہیں چل سکتے، پاکستان کے خلاف ہونے والے حملوں کے باوجود تجارت کا جاری رہنا ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغان عوام کا دشمن نہیں بلکہ دہشتگردی کا مخالف ہے، اور افغان حکام کو ریاستی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نان اسٹیٹ ایکٹرز کی طرح فیصلے نہیں کرنے چاہئیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ طالبان حکومت کب تک عبوری حیثیت میں چلتی رہے گی، کیونکہ سرحد پار دہشتگرد گروہ نہ صرف پاکستانی علاقوں میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں بلکہ امریکی اسلحہ بھی استعمال کر رہے ہیں جو خطے کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق، حالیہ دہشتگرد حملوں میں 29 مرتبہ امریکی اسلحہ استعمال ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا استعمال بھی سامنے آیا ہے، لہٰذا ان پر فوری پابندی لگانا ناگزیر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رواں سال جنوری سے اب تک ملک بھر میں 67 ہزار آپریشن کیے جاچکے ہیں جن میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سب سے زیادہ کارروائیاں ہوئی ہیں، جبکہ مجموعی طور پر 210 دہشتگرد مارے گئے اور درجنوں سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ سرحدی صورتحال کے باعث سخت اقدامات کیے گئے ہیں اور اسمگلنگ خصوصاً ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ میں نمایاں کمی لائی گئی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے جنرل (ر) فیض حمید کے کورٹ مارشل کے حوالے سے واضح کیا کہ یہ سراسر قانونی اور عدالتی عمل ہے، اس پر قیاس آرائی نہیں ہونی چاہیے اور فیصلہ سامنے آتے ہی عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔
انہوں نے مؤقف اپنایا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ پاکستان نے ہر حال میں جیتنی ہے، فوج اور عوام نے مل کر اس چیلنج کو شکست دینی ہے۔

