کراچی: پاکستانی معیشت کے لیے ایک اور مثبت خبر سامنے آئی ہے جہاں پاکستان کی پہلی نجی کمپنی ہیمالین ارتھ ایکسپلوریشن نے امریکی کمپنی نووا منرلز کے ساتھ ریئر ارتھ منرلز اور قیمتی دھاتوں کی تلاش اور برآمدات سے متعلق اہم معاہدہ کرلیا ہے۔
معاہدے کے مطابق، پاکستان میں موجود معدنی وسائل کے شعبے کو جدید تکنیک فراہم کی جائے گی جبکہ پاکستانی نوجوانوں کو امریکہ بھیج کر اس شعبے میں تربیت بھی دی جائے گی۔ یہ اقدام نہ صرف مقامی ہنرمندی کو بڑھائے گا بلکہ پاکستان کے معدنیات سیکٹر میں نئی راہیں کھولنے کا سبب بھی بنے گا۔
ہیمالین ارتھ ایکسپلوریشن کے چیئرمین حنیف گوہر نے بتایا کہ امریکی کمپنی پاکستان میں معدنیات کے شعبے میں 500 ملین ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری کرے گی۔ معاہدے میں پلیسر گولڈ، قیمتی دھاتیں، اسٹوڈنٹ ایکسچینج پروگرام اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر شامل ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں موجود قیمتی دھاتوں کے ذخائر جلد امریکہ کو برآمد کیے جائیں گے۔
کمپنی کے سی ای او لیاقت سلطان نے کہا کہ نجی سطح پر پاکستان اور امریکہ کے درمیان معدنیات کے شعبے میں یہ پہلا باقاعدہ معاہدہ ہے جو مستقبل میں مزید غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرے گا۔
امریکی کمپنی نووا منرلز کے سی ای او کرسٹوفر گیرسٹین نے کہا کہ ان کا ادارہ گزشتہ 30 سال سے معدنیات کے شعبے سے منسلک ہے اور وہ پاکستانی کمپنی کے ساتھ اس شراکت داری پر انتہائی پرجوش ہیں۔
یہ معاہدہ معدنیات کے شعبے میں پاکستان کے لیے ترقی، روزگار اور برآمدات کے نئے مواقع پیدا کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

