مصطفیٰ کمال کا بڑا انکشاف: عمران فاروق کا قتل الطاف حسین کے حکم پر ہوا

ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے الزام عائد کیا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کو بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کے حکم پر قتل کروایا گیا۔

کراچی میں پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے دعویٰ کیا کہ نشے کی حالت میں الطاف حسین نے عمران فاروق کے قتل کا حکم دیا اور 17 ستمبر 2010 کو انہیں ان کی سالگرہ پر “تحفہ” دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بانی ایم کیو ایم نے لاش کے لیے چندہ جمع کروایا، میت کی ترسیل پر ڈرامہ کیا اور اہلِ خانہ سے بعد ازاں کوئی رابطہ نہیں رکھا۔

مصطفیٰ کمال کے مطابق، قتل کے بعد مالی بے ضابطگیوں، چندہ اکٹھا کرنے اور مذہبی و سماجی تقریبات میں نمائشی رویّے پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔

انہوں نے اسکاٹ لینڈ یارڈ کے کردار، اندرونی معلومات اور شواہد سامنے لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اصل قاتلوں کو بے نقاب کیا جائے۔

وفاقی وزیر نے عمران فاروق کے بچوں سے اپیل کی کہ وہ قانونی راستہ اختیار کریں اور تحقیقات کے لیے عدالت سے رجوع کریں، جبکہ خود ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ الزامات شہر اور قوم کے مفاد میں سچ سامنے لانے کے لیے ہیں اور وہ مزید حقائق منظرِ عام پر لانے کو تیار ہیں۔