بریڈفورڈ واقعہ: پاکستان کا برطانیہ کو سخت ڈیمارش، اشتعال انگیزی اور قتل کی دھمکیوں پر شدید احتجاج

اسلام آباد: پاکستان نے برطانوی شہر بریڈفورڈ میں پاکستانی قونصلیٹ کے باہر ہونے والے احتجاج اور چیف آف ڈیفنس فورسز کے خلاف اشتعال انگیز نعروں اور قتل کی دھمکیوں پر برطانیہ کے قائم مقام ہائی کمشنر کو وزارتِ خارجہ طلب کر کے سخت ڈیمارش جاری کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ ملک میں موجود نہ ہونے کے باعث ڈپٹی ہیڈ آف مشن میٹ کینل کو طلب کیا گیا۔

ڈیمارش میں اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ برطانیہ کی سرزمین کو پاکستان کو غیر مستحکم کرنے، نفرت انگیزی پھیلانے اور دہشت گردی پر اکسانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق، ایک پاکستانی سیاسی جماعت کے برطانیہ میں آفیشل اکاؤنٹ کو مظاہرین جمع کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، جہاں مظاہرین نے فیلڈ مارشل کے خلاف انتہائی قابلِ اعتراض اور اشتعال انگیز زبان استعمال کی اور کار بم دھماکے میں قتل کی کھلی دھمکیاں دیں۔

حکومتِ پاکستان نے واضح کیا کہ یہ آزادیِ اظہار نہیں بلکہ براہِ راست دہشت گردی پر اکسانے کے مترادف ہے۔

پاکستان نے برطانوی حکام پر زور دیا کہ وہ اپنی انسدادِ دہشت گردی ذمہ داریوں کے تحت ایسے عناصر کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کریں، ملوث افراد کی شناخت اور تحقیقات کے بعد انہیں قانون کے مطابق جوابدہ ٹھہرایا جائے۔

ڈیمارش میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1373 اور برطانیہ کے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 2006 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس نوعیت کی اشتعال انگیز اور پرتشدد تقاریر بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین نے ڈیمارش کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان برطانیہ سے توقع رکھتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر ایسے واقعات کی روک تھام یقینی بنائے گا اور پاکستان مخالف، پرتشدد بیانیے کے خلاف سخت اقدامات کرے گا۔