وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے سیاسی ڈی این اے میں مذاکرات کی گنجائش نہیں اور وہ اصول پرست نہیں بلکہ 200 فیصد مفاد پرست شخص ہیں جو ہر حال میں اپنے ذاتی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔
سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ وزیراعظم بار بار پاکستان تحریک انصاف کو مذاکرات کی دعوت دے رہے ہیں اور دعا ہے کہ یہ مذاکرات مثبت اور نتیجہ خیز ثابت ہوں، تاہم پی ٹی آئی کی قیادت کی سیاسی سوچ میں مفاہمت کی گنجائش نظر نہیں آتی۔
ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات ہمیشہ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر ہوتے ہیں، مگر عمران خان کسی اصول پر قائم رہنے والے شخص نہیں بلکہ ذاتی مفاد کے لیے اصولوں اور انسانی رشتوں تک کو روند سکتے ہیں۔
وزیر دفاع نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے پوری سیاسی زندگی میں ذاتی مفاد کو مقدم رکھا، اگر پی ٹی آئی اپنی جماعت کو منظم کر لے تو شاید بات آگے بڑھ سکے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے متعدد بار مذاکرات کی پیشکش کے باوجود دوسری طرف سے شرائط عائد کی جاتی ہیں، جو سنجیدہ بات چیت میں رکاوٹ بنتی ہیں۔
خواجہ آصف نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چار سال قبل پی ٹی آئی کے ایک وزیر کے بیان سے پورا ایوی ایشن سیکٹر متاثر ہوا، تاہم اب پی آئی اے کی کامیاب بولی لگ چکی ہے اور حکومت کے پاس اب بھی 25 فیصد شیئرز موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نجکاری سے قومی ایئرلائن کی سروسز میں بہتری آئے گی، کیونکہ جس طرح پی آئی اے گزشتہ چار برسوں میں چل رہی تھی، وہ زیادہ عرصہ برقرار نہیں رہ سکتی تھی۔

