وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت ملکی ترقی، خوشحالی اور سیاسی ہم آہنگی کے لیے پرامن ڈائیلاگ کے اصولی موقف پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کے ساتھی مذاکرات کی بات کر رہے ہیں، حکومت پہلے بھی اور اب بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم بات چیت صرف جائز مطالبات پر ہوگی اور کسی قسم کی بلیک میلنگ برداشت نہیں کی جائے گی۔
وزیراعظم نے زور دیا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا، حکومت پاکستان اس مقصد کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کو تیار ہے۔
وزیراعظم نے کابینہ کو بتایا کہ قومی ایئر لائن پی آئی اے کی نجکاری کا عمل شفاف، مستند اور قابلِ اعتبار بنانے کے لیے تمام انتظامات مکمل کیے گئے ہیں اور بولی کا عمل ٹیلی ویژن پر براہِ راست نشر کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ نجکاری ملک کی معاشی اصلاحات کے ایجنڈے کا اہم حصہ ہے اور اس میں کابینہ اراکین نے محنت سے کام کیا۔
وزیراعظم نے دہشت گردی کے نئے خطرات کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ افغان سرزمین سے ابھرنے والے خطرات پر عالمی برادری افغان حکومت پر دباؤ ڈالے۔
اجلاس میں وفاقی کابینہ نے آف گرڈ پاور پلانٹس لیوی ایکٹ 2025 میں توسیع، پی پی آر اے آرڈیننس 2002 میں ترامیم کی اصولی منظوری، نیشنل کینبیز کنٹرول اینڈ ریگولیٹری پالیسی 2025، ویزا کلیئرنس نظام اور متعدد دیگر اہم فیصلوں کی توثیق کی۔
وزیراعظم نے انڈر 19 کرکٹ ٹیم کو ایشیا کپ جیتنے پر مبارکباد بھی دی اور کہا کہ نوجوان کھلاڑی قوم کا فخر ہیں۔

