لاہور: انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کے مزید دو مقدمات میں پی ٹی آئی رہنماؤں کو 10،10 سال قید کی سزا سنا دی

لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کے پرتشدد واقعات سے متعلق مزید دو مقدمات کا فیصلہ سنا دیا ہے، جس کے تحت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنماؤں ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، عمر سرفراز چیمہ اور اعجاز چوہدری کو دس، دس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے یہ فیصلہ کوٹ لکھپت جیل میں سنایا، جہاں گلبرگ میں گاڑیاں جلانے اور کلمہ چوک پر کنٹینر نذرِ آتش کرنے کے مقدمات کی سماعت مکمل کی گئی تھی۔

عدالت کے مطابق، استغاثہ ملزمان کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں کامیاب رہا، جس پر پی ٹی آئی رہنماؤں کو سزائیں سنائی گئیں۔

گلبرگ میں گاڑیاں جلانے کے مقدمے میں عدالت نے 22 ملزمان کو بری کر دیا، جبکہ کلمہ چوک میں کنٹینر جلانے کے مقدمے میں 5 ملزمان کو بری کیا گیا۔ ان مقدمات کے چالان تھانہ گلبرگ اور تھانہ نصیر آباد پولیس کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے تھے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق، تھانہ گلبرگ کے مقدمے میں 33 ملزمان نامزد تھے، جن میں میاں اسلم اقبال سمیت چار ملزمان کو اشتہاری قرار دیا گیا تھا، جبکہ تھانہ نصیر آباد کے مقدمے میں 36 ملزمان کے خلاف چالان جمع کرایا گیا اور اس میں میاں اسلم اقبال سمیت 12 ملزمان اشتہاری قرار پائے تھے۔

کلمہ چوک کیس میں عدالت نے میاں اسلم اقبال سمیت اشتہاری ملزمان کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم بھی جاری کیا۔

فیصلے میں بتایا گیا کہ دورانِ ٹرائل مجموعی طور پر 37 گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، جبکہ 24 ملزمان کے خلاف ٹرائل مکمل ہونے کے بعد سزا سنائی گئی۔

عدالت نے واضح کیا کہ شاہ محمود قریشی کا اس مقدمے میں تاحال چالان جمع نہیں ہوا، تاہم سپلیمنٹری چالان آنے کے بعد ان کا ٹرائل دوسرے مرحلے میں کیا جائے گا۔

فیصلے کے مطابق، ملزمان پر بغاوت اور عوام کو فسادات پر اکسانے جیسے سنگین الزامات تھے۔

فیصلے کے بعد ڈاکٹر یاسمین راشد کے وکیل رانا مدثر عمر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقدمات معمول کی کارروائی کے لیے مقرر تھے، تاہم دفاع کو مکمل موقع نہیں دیا گیا اور رات کے اندھیرے میں سزائیں سنائی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ کوٹ لکھپت جیل میں قید رہنماؤں کے حوصلے بلند ہیں اور اب تک پی ٹی آئی رہنماؤں کو مجموعی طور پر 200 سال سے زائد قید کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں، جنہیں اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کیا جائے گا۔