عمران خان اور بشری بی بی نے وزیراعظم ہاؤس کو کاروبار بنایا ہوا تھا، توشہ خانہ فیصلے پر عطا تارڑ کا ردعمل

وفاقی وزیرِ اطلاعات عطااللہ تارڑ نے توشہ خانہ ٹو کیس کے عدالتی فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیصلہ آ چکا ہے اور بانی پی ٹی آئی کی جانب سے امانت میں خیانت ثابت ہو گئی ہے۔

نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی نے وزیراعظم ہاؤس کو کاروبار بنا رکھا تھا اور دونوں نے مل کر پاکستان کا نام عالمی سطح پر بدنام کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پوری قوم نے دیکھا کہ کس طرح فراڈ کے ذریعے زیادہ سے زیادہ مال بنایا گیا، توشہ خانہ کے تحائف بیچ کر منافع کمایا گیا اور تحائف کی کم ویلیو لگا کر قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔

عطااللہ تارڑ کے مطابق، 60 کروڑ روپے مالیت کے تحائف کی قیمت 13 لاکھ روپے لگانا قوم کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ توشہ خانہ کیس میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے کرپشن کی اور ملنے والے تحائف مارکیٹ ریٹ سے انتہائی کم قیمت پر فروخت کیے گئے۔

وزیرِ اطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ توشہ خانہ ٹو کیس میں سنائی گئی 17 سال قید کی سزا 190 ملین پاؤنڈ کیس میں دی گئی سزا کی مدت مکمل ہونے کے بعد شروع ہوگی، یعنی پہلے 14 سالہ سزا مکمل ہوگی اور اس کے بعد توشہ خانہ ٹو کیس کی سزا کا آغاز ہوگا۔

میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے عدالتی فیصلے کو انصاف پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تحائف کی قیمت کم لگوا کر سرکار کو کم رقم دی گئی اور ریاست کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔