خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں سیکیورٹی فورسز کے کیمپ پر فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں نے بزدلانہ حملہ کیا، جسے فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی سے ناکام بنا دیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، 19 دسمبر کو دہشتگردوں نے کیمپ کی حفاظتی حصار توڑنے کی کوشش کی، تاہم ہر وقت تیار جوانوں کے فوری ردعمل نے ان کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، مایوسی کے عالم میں حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی کیمپ کی بیرونی دیوار سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں دیوار منہدم ہوگئی اور قریبی شہری انفرااسٹرکچر سمیت ایک مسجد کو شدید نقصان پہنچا۔
اس سفاکانہ کارروائی میں بچوں اور خواتین سمیت 15 بے گناہ شہری زخمی ہوئے اور متعدد گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔
سیکیورٹی فورسز نے غیرمتزلزل جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کے تمام 4 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔
شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران وطن کے چار بہادر سپوتوں نے جام شہادت نوش کیا جن میں حوالدار محمد وقاص، نائیک خان ویز، سپاہی سفیان حیدر اور سپاہی رفعت شامل ہیں۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ دہشتگردی افغانستان میں موجود خوارج کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے، جو افغان طالبان کے اس دعوے کی نفی کرتی ہے کہ افغان سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہو رہی۔
پاکستان نے افغان عبوری حکومت سے توقع ظاہر کی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور خوارج کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہ دے۔
ترجمان پاک فوج نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ پاکستانی عوام کی سلامتی اولین ترجیح ہے اور پاکستان خوارج، ان کے سہولت کاروں اور سرپرستوں کے خلاف ہر ضروری اقدام کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

