اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے انکشاف کیا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید ریٹائرمنٹ کے بعد بانی پی ٹی آئی عمران خان کے سیاسی مشیر کے طور پر سرگرم رہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد فیض حمید پر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی واضح ممانعت تھی، اس کے باوجود وہ 9 مئی جیسے واقعات اور بغاوت پر اکسانے کی سرگرمیوں میں شامل رہے۔
عطا تارڑ کے مطابق، فیض-نیازی گٹھ جوڑ سے متعلق شواہد موجود ہیں اور تحقیقات میں سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پر ہی معاملہ آگے بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ دیکھنا ہوگا کہ تحقیقات کس سمت میں آگے بڑھتی ہیں۔
وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں قانون اور جیل مینوئل کے مطابق ہوں گی، جس میں سیاسی گفتگو کی اجازت نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ عظمیٰ خان کی ملاقات اس لیے ممکن بنائی گئی تھی کہ انہوں نے ضابطے کی خلاف ورزی نہیں کی تھی، تاہم اب خلاف ورزی کے بعد ان پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب، عطا اللہ تارڑ نے سڈنی اور بونڈائی بیچ واقعے پر بھارت کی جانب سے بغیر شواہد پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے سے قبل الزامات لگانا غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ آسٹریلوی پولیس کی تصدیق کے بعد واضح ہو چکا ہے کہ حملہ آور بھارتی تھے، جس سے پاکستان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ثابت ہو گئے۔

