این ایف سی ایوارڈ حق ہے، احسان نہیں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت فنڈز دیے جائیں: نواز شریف

مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے کہا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ بھیک نہیں بلکہ حق ہے، اور وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کریں گے کہ گلگت بلتستان (جی بی) اور آزاد کشمیر کو این ایف سی کے تحت باقاعدہ فنڈز فراہم کیے جائیں۔

لاہور میں آزاد کشمیر اور جی بی کے پارٹی رہنماؤں سے خطاب میں انہوں نے واضح کیا کہ ٹکٹوں کی تقسیم میں صرف اور صرف میرٹ کو بنیاد بنایا جائے، پارٹی اصولوں سے ہٹ کر کوئی فیصلہ قبول نہیں ہوگا۔

نواز شریف نے کہا کہ پارٹی کا پارلیمانی بورڈ ہر امیدوار کو سن کر میرٹ پر فیصلہ کرتا ہے، چاہے قومی انتخابات ہوں یا صوبائی۔ انہوں نے کہا کہ "ہم نے ہمیشہ میرٹ پر سمجھوتہ نہیں کیا، پرانے اور پکے ساتھیوں کو ترجیح دی جائے۔” ان کا کہنا تھا کہ ہر امیدوار کو سنا جائے گا، پر کسی قسم کی اندرونی لڑائی یا دھڑے بندی برداشت نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے این ایف سی ایوارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبوں میں وفاق کی سرمایہ کاری پہلے ہی این ایف سی کے حصے سے زیادہ ہے، لیکن اس کے باوجود جی بی اور آزاد کشمیر کو ان کے حق کے مطابق باقاعدہ فنڈنگ ملنا ضروری ہے۔ نواز شریف نے یہ بھی کہا کہ ان علاقوں میں موجودہ صلاحیت فنڈز کے مؤثر استعمال کے لیے ناکافی ہے، اس لیے ادارہ جاتی گنجائش پیدا کرنا ناگزیر ہے۔

سابق وزیراعظم نے بتایا کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف سے ذاتی طور پر یہ معاملہ اٹھائیں گے تاکہ این ایف سی کے تحت جی بی اور آزاد کشمیر کو ایک منظم، شفاف اور مستقل بنیادوں پر فنڈز دیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ "یہ حق ہے، کوئی احسان نہیں۔”

نواز شریف نے کہا کہ آزاد کشمیر اور جی بی میں سیاسی فضا موافق ہے اور اچھے نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قبضہ مافیا اور تجاوزات کے خلاف مہم جاری ہے، جبکہ پنجاب ماڈل نے صوبے میں ترقی کی نئی مثال قائم کی ہے۔

آخر میں انہوں نے اعلان کیا کہ وہ خود آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں کا دورہ کریں گے اور امیدواروں سے ملاقات کر کے ٹکٹوں کا فیصلہ میرٹ پر کریں گے۔