وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو سنائی گئی سزا کو تاریخی اور قانون و انصاف کی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج کا ادارہ مضبوط قانونی میکنزم کے تحت کام کرتا ہے، اور اس کیس میں طویل عرصے تک شواہد، گواہوں کے بیانات اور ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس کے بعد یہ فیصلہ سامنے آیا۔
عطا تارڑ کے مطابق، فیض حمید نے اپنی سروس ریٹائرمنٹ کے بعد اس وقت سیاسی مداخلت کی جب سیاسی سرگرمیوں پر قدغن تھی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وہ پی ٹی آئی کے سیاسی مشیر کے طور پر سرگرم رہے اور ملک میں سازشوں اور انتشار میں کردار ادا کیا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ فیض حمید نے نہ صرف ریڈ لائن کراس کی بلکہ اختیارات کا ناجائز استعمال بھی کیا، جو ان پر ثابت ہو چکا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ 9 مئی کے انتشار، ریاست مخالف رویے اور بغاوت جیسے سنگین الزامات کے شواہد مکمل طور پر ثابت ہوئے، جبکہ ہاؤسنگ سوسائٹی اور دیگر کیسز میں بھی ان کی بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ قانونِ انصاف کے نظام کو مضبوط بناتا ہے اور پیغام دیتا ہے کہ قانون سے کوئی بالاتر نہیں۔
عطا تارڑ نے کہا کہ فیض حمید کو ٹرائل میں دفاع کا بھرپور موقع دیا گیا، گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے اور شواہد کا مکمل جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فوج میں خود احتسابی کا نظام ہمیشہ سے مضبوط رہا ہے اور آج کا فیصلہ اس کی واضح مثال ہے۔
وزیر اطلاعات نے یہ بھی واضح کیا کہ 9 مئی کے واقعات سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ سیاسی سرگرمیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق دیگر پہلو بھی زیرِ جائزہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی رٹ کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور جو بھی قانون توڑے گا وہ انجام تک پہنچے گا۔

