پاک بحریہ 9 دسمبر کو "ہنگور ڈے” کے طور پر مناتی ہے، جو آبدوز ہنگور کی بہادری، عزم اور پاکستان کے ناقابلِ تسخیر دفاع کی شاندار علامت ہے۔ 1971 کی جنگ میں آبدوز ہنگور نے بھارتی بحریہ کے غرور کو زمین بوس کرتے ہوئے جنگی جہاز ککری کو غرق اور کرپان کو شدید نقصان پہنچایا، جو آج بھی پاکستان کی بحری طاقت کی تاریخ کا روشن باب ہے۔
اس موقع پر چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ پاکستان اپنی خود مختاری، سلامتی اور دفاعِ وطن کے لیے غیر متزلزل عزم رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 9 دسمبر 1971 کو ہنگور کے بہادر عملے نے ایسی جانبازی دکھائی جو آج تک دشمن کے ذہن پر ثبت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اُس وقت بھی پاک بحریہ سمندر میں سیسہ پلائی دیوار تھی اور آج بھی ملکی بحری سرحدوں پر آہنی فصیل بن کر دفاع کر رہی ہے۔
فیلڈ مارشل کے مطابق، ہنگور ڈے اس بات کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان امن چاہتا ہے لیکن اپنی آزادی اور دفاع پر کوئی سمجھوتا نہیں کرتا۔
نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاک بحریہ نے ماضی میں بھی دشمن کے دانت کھٹے کیے اور آج بھی ہر محاذ پر مکمل تیار ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ ہنگور کی شاندار روایات کو آگے بڑھاتے ہوئے 8 جدید ہنگور کلاس آبدوزیں جلد پاک بحریہ کے فلیٹ میں شامل ہونے جا رہی ہیں، جس سے سمندری دفاع مزید مضبوط ہوگا۔
ہنگور ڈے کے موقع پر پاک بحریہ نے خصوصی دستاویزی فلم "ہدف” بھی جاری کی ہے، جو آبدوز ہنگور کے کمانڈنگ آفیسر وائس ایڈمرل (ریٹائرڈ) احمد تسنیم کی وار ڈائری پر مبنی ہے اور 1971 کی تاریخ ساز کامیابی کو نئے انداز میں پیش کرتی ہے۔

