پی ٹی آئی اگر عمران خان کے بیانیے سے الگ ہو جائے تو بات ہوسکتی ہے، عطا تارڑ

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے پاکستان تحریک انصاف اور اس کی قیادت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی رہنما بانی تحریک انصاف عمران خان کے بیانیے سے لاتعلقی کا اعلان کریں تو حکومت ان سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کو داؤ پر لگانے اور قانون شکنی کی اجازت کسی صورت نہیں دی جا سکتی۔

ایک بیان میں عطا تارڑ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اگر اڈیالہ جیل کا رخ کریں گے تو انہیں واپس بھیج دیا جائے گا، جبکہ پی ٹی آئی رہنما سہیل آفریدی کو بھی ناکے سے ہی واپس کردیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر عمران خان کی بہنیں جیل کا رخ کرتی ہیں تو ان کی گرفتاری بھی خارج از امکان نہیں، کیونکہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔

عطا تارڑ نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ پی ٹی آئی تب ہی مذاکرات کے قابل ہو سکتی ہے جب وہ بانی پی ٹی آئی کے بیانیے سے لاتعلقی اختیار کرے۔ ان کے مطابق ”ملک کو کسی ایک شخص کی خاطر داؤ پر نہیں لگایا جا سکتا“۔

لاہور میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے مزید سخت مؤقف اپناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ عمران خان ایک ”ذہنی مریض“ ہیں جنہوں نے ملک کی معیشت اور انتظامی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں 12 سالہ حکومت کے باوجود تحریک انصاف صوبے میں ایک بڑی ترقیاتی اسکیم تک نہ دے سکی۔ اس کے برعکس مسلم لیگ (ن) نے پنجاب میں فرانزک لیب سمیت کئی بڑے منصوبے مکمل کیے۔

انہوں نے کہا کہ 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل سمیت متعدد کرپشن کیسز میں عمران خان کو جواب دینا ہوگا۔ عطا تارڑ کے مطابق عمران خان کی بہنیں نہ صرف ملکی اداروں کے خلاف بیانات دیتی رہی ہیں بلکہ بھارتی میڈیا پر جا کر فوج پر الزامات بھی لگاتی ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ انہیں ریاستی مفاد سے زیادہ ذاتی سیاست عزیز ہے۔

انہوں نے نو مئی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کور کمانڈر ہاؤس پر حملے کی ویڈیوز میں پی ٹی آئی قیادت کے قریبی لوگ نظر آئے، جنہوں نے دشمن کے ایجنڈے کو تقویت پہنچائی۔ عطا تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس آج بھی ریاستی اداروں کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈے میں مصروف ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات کے بقول پاکستان کی فوج نے ہمیشہ دشمن کو شکست دی ہے، بھارتی فوج پر برتری ثابت کی ہے اور کسی کو بھی اس ادارے پر انگلی اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے نہ تو کشمیر کا مقدمہ لڑا اور نہ ہی بھارت کی اشتعال انگیزیوں کا جواب دیا، بلکہ اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے فوج کو نشانہ بنایا۔