بلوچستان میں امن کی جانب اہم قدم، فتنہ الہندوستان بی آر اے کمانڈر نے 100 ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال دیے
ڈیرہ بگٹی میں ریاستِ پاکستان کے خلاف مسلح کارروائیوں میں ملوث کالعدم تنظیم بی آر اے کے بڑے کمانڈر وڈیرہ نور علی چاکرانی نے ایک سو سے زائد فراریوں کے ہمراہ ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شمولیت اختیار کرلی۔ سرینڈر کی یہ اہم تقریب پاکستان ہاؤس سوئی میں منعقد ہوئی جہاں میر آفتاب بگٹی اور ضلعی انتظامیہ کے نمائندے موجود تھے۔
وڈیرہ نور علی چاکرانی اور ان کے ساتھیوں نے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود ریاستی حکام کے حوالے کیا اور پاکستان سے وفاداری کا حلف اٹھایا۔ اس موقع پر مقامی معززین، قبائلی عمائدین اور میڈیا کے نمائندے بھی شریک تھے۔ سرینڈر کے راستے میں بی آر اے کے شرپسند عناصر نے چاکرانی گروپ پر حملہ بھی کیا، تاہم تمام فراری محفوظ حالت میں پاکستان ہاؤس پہنچنے میں کامیاب رہے۔
نور علی چاکرانی بی آر اے کا ایک بڑا اور فعال کمانڈر تصور کیا جاتا تھا، جس کے ہتھیار ڈالنے کو بلوچستان کے سیکیورٹی منظرنامے میں بڑی تبدیلی قرار دیا جارہا ہے۔ انہوں نے سرینڈر کے ساتھ ساتھ بی آر اے کے خلاف "چاکرانی امن فورس” کے قیام کا اعلان بھی کیا، جسے علاقے میں امن و استحکام کی طرف اہم قدم سمجھا جارہا ہے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق، انسدادِ دہشت گردی کی مؤثر کارروائیوں اور مضبوط ریاستی حکمت عملی نے عسکریت پسندی کے خاتمے میں واضح کامیابی دلائی ہے، اور اب دہشت گرد عناصر کے سامنے امن کا راستہ اختیار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سرینڈر کرنے والے تمام افراد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہتھیار ڈالنے والوں نے قومی پرچم اٹھا کر امن کی نئی منزل کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست اپنی نرمی کو کبھی کمزوری نہیں بننے دے گی، جو لوگ آئینِ پاکستان کو قبول کرتے ہیں انہیں گلے لگایا جائے گا، مگر ریاست مخالف عناصر کے خلاف انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز بلا تعطل جاری رہیں گے۔

