اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقاتوں پر سختی؛ عظمیٰ خان کی ملاقات بھی بند، وفاقی وزرا کی دو ٹوک پالیسی کا اعلان

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے ملاقاتوں کے معاملے پر حکومت کی واضح پالیسی پیش کردی۔ وزرا نے اعلان کیا کہ جیل رولز کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کی ملاقاتیں بند کی جا رہی ہیں، اور آج سے عمران خان کی بہن عظمیٰ خان کی ملاقات بھی منسوخ کر دی گئی ہے۔

عطا اللہ تارڑ کے مطابق، عمران خان کی تینوں بہنیں جیل کے باہر بارہا قانون کی خلاف ورزی اور شورش پیدا کرتی رہی ہیں، جس کی وجہ سے ان کی ملاقاتوں پر پابندی لگائی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ نہیں ہو سکتا کہ اندر ملاقاتیں کریں اور باہر کھڑے ہو کر پروپیگنڈا شروع کر دیں۔ جب قوانین توڑے جائیں گے تو ملاقاتیں بند ہوں گی۔”

وزیر اطلاعات نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا یافتہ قیدی ہیں اور انہیں ملکی تاریخ کی سب سے زیادہ سہولیات فراہم کی گئی ہیں، جن میں بائیسکل اور دیگر خصوصی سہولیات شامل ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملاقات کے بعد سیاسی گفتگو کی جاتی ہے اور جیل سے باہر آکر ریاست مخالف بیانیہ پھیلایا جاتا ہے، جو خلافِ قانون ہے۔

دوسری جانب، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے وضاحت کی کہ جیل رولز کے مطابق ایک ہفتے میں صرف ایک ملاقات کی اجازت ہے، جس میں سیاسی گفتگو منع ہے اور ملاقات کے مندرجات کو میڈیا پر لانا بھی ممنوع ہے۔ انہوں نے کہا کہ رول 557 کے تحت سپرنٹنڈنٹ جیل کو مکمل اختیار ہے کہ امن و امان کے خدشے کی بنیاد پر ملاقات روک سکے۔

وزیر قانون کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی ایک سزا یافتہ مجرم ہیں، اور تاریخ میں کبھی بھی ایسے مجرم کو اتنی سہولیات نہیں دی گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جیل قوانین دہائیوں سے موجود ہیں، اور قانون کی حکمرانی ہر حال میں قائم رہے گی۔

وفاقی وزرا نے واضح کیا کہ اڈیالہ جیل کے باہر کسی بھی قسم کی ہنگامہ آرائی، نعرے بازی یا قانون شکنی پر سخت کارروائی کی جائے گی اور "اب روز روز اڈیالہ کے باہر تماشا نہیں لگے گا”۔ ملاقاتوں کا مقصد صرف حال احوال پوچھنا اور قانونی گفتگو ہوتا ہے، ریاست مخالف بیانیہ پھیلانا نہیں۔

عطا تارڑ نے الزام لگایا کہ عمران خان کی بہنیں ملاقات کے بعد سیاسی ٹویٹس کرواتی ہیں اور بیرونِ ملک میڈیا پر ریاست مخالف بیانات بھی دیے گئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھارت اور افغانستان سے چل رہے ہیں۔

پریس کانفرنس میں وزرا نے یہ بھی کہا کہ کسی نے جیل توڑنے یا انتشار پھیلانے کی کوشش کی تو ریاست اپنا بھرپور ردعمل دے گی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت ذاتی مفاد کے لیے ملک کے مفاد کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے، جو کسی صورت قبول نہیں۔