اسلام آباد: سرکاری حکام نے غیر رجسٹرڈ وی پی این کے بڑھتے ہوئے استعمال کو قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دے دیا ہے اور عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہرگز غیر قانونی یا غیر منظور شدہ وی پی این استعمال نہ کریں۔
حکام کے مطابق، دہشت گرد، شدت پسند، جرائم پیشہ عناصر اور غیر ملکی ایجنٹ اپنے وجود اور سرگرمیوں کو چھپانے کے لیے بڑے پیمانے پر غیر رجسٹرڈ وی پی این استعمال کر رہے ہیں، جن کے ذریعے حملوں کی منصوبہ بندی، افواہیں، پروپیگنڈا اور غیر قانونی سرگرمیوں کا نیٹ ورک چلایا جا رہا ہے۔
سرکاری حکام نے خبردار کیا کہ ایسی سرگرمیوں کے نتیجے میں پاکستان کا ہر شہری غیر محفوظ ہو جاتا ہے، اس لیے عوام اپنی سیکیورٹی اور ملک کے تحفظ کے لیے صرف پی ٹی اے سے منظور شدہ اور رجسٹرڈ وی پی این ہی استعمال کریں۔
آئی ٹی ماہرین کے مطابق، مفت یا غیر منظور شدہ وی پی این حقیقت میں صارفین کا ڈیٹا چوری کر رہے ہیں۔ ایسے وی پی این صارفین کے یوزرنیم، پاس ورڈز، بینکنگ تفصیلات اور ذاتی معلومات لاگ کر کے ہیکرز، غیر ملکی اداروں یا جرائم پیشہ نیٹ ورکس تک پہنچا دیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ "غیر رجسٹرڈ وی پی این خاموش چور ہیں جو آپ کی شناخت چرا رہے ہیں”۔
رپورٹ کے مطابق، غیر قانونی وی پی این نہ صرف سیکیورٹی رسک ہیں بلکہ قومی خزانے کو بھی اربوں روپے کا نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان کے ذریعے قانونی گیٹ ویز بائی پاس کیے جاتے ہیں، جس سے ٹیکس، فیس اور کاروباری آمدن بیرونِ ملک منتقل ہوتی ہے اور ملکی مالی نظام متاثر ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، غیر رجسٹرڈ وی پی این انٹرنیٹ پر بوجھ بڑھا کر رفتار سست کرتے ہیں، جس سے گھریلو صارفین، کاروبار اور پورا ملک متاثر ہوتا ہے۔ بعض افراد تیز رفتار کی امید میں وی پی این استعمال کرتے ہیں، مگر نتیجے میں پورا نیٹ ورک سست پڑ جاتا ہے۔
حکام نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ قانونی، منظور شدہ اور لائسنس یافتہ وی پی این استعمال کریں تاکہ خود بھی محفوظ رہیں اور ملک کو بھی محفوظ بنایا جا سکے۔

