اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر قرض کی منظوری پر غور کے لیے اجلاس 8 دسمبر کو طلب کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق، اجلاس میں پاکستان کو ای ایف ایف پروگرام کے تحت 1 ارب ڈالر جبکہ کلائمیٹ فنانسنگ کی مد میں 20 کروڑ ڈالر جاری کیے جائیں گے۔ یہ فیصلہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 14 اکتوبر کو ہونے والے اسٹاف لیول معاہدے کے بعد متوقع تھا۔
آئی ایم ایف کے بورڈ کیلنڈر کے مطابق، اجلاس میں پاکستان اور صومالیہ دونوں کے لیے ایس ایل ایز کی منظوری پر غور کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق، اجلاس سے قبل پاکستان کو گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگنوسٹک (جی سی ڈی) رپورٹ جاری کرنا ہوگی جو ای ایف ایف پروگرام کے اہم ساختی معیارات میں شامل ہے۔ رپورٹ کے اجرا میں تاخیر تکنیکی اختلافات کی وجہ سے ہوئی تھی۔ اس رپورٹ میں عوامی مالیاتی نظام کی خامیوں اور بیوروکریسی میں اثاثہ جات ظاہر نہ کرنے کے رجحان کو پاکستان کے معاشی نظم و نسق کے بڑے چیلنجز قرار دیا گیا۔
واضح رہے کہ آئی ایم ایف مشن نے اس سال کے آغاز میں اسلام آباد کا دورہ کیا تھا اور اس دوران متعدد اداروں بشمول سپریم کورٹ، نیب، ایف بی آر، آڈیٹر جنرل اور اسٹیٹ بینک سے ملاقاتیں کیں تھیں۔

