وانا اور اسلام آباد کچہری دھماکوں میں بھارت ملوث، افغانستان دہشتگردوں کو لگام دے، وزیراعظم شہباز شریف
اسلام آباد، وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد اہم خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وانا حملہ اور اسلام آباد کچہری دھماکا بھارت کی پشت پناہی میں کیے گئے دہشتگردی کے واقعات ہیں، جبکہ افغانستان سے کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وانا میں دہشتگردوں نے ایک بار پھر خون کی ہولی کھیلنے کی گھٹیا کوشش کی، مگر افواجِ پاکستان نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام خوارج کو جہنم واصل کردیا۔ انہوں نے اس کامیاب آپریشن پر پاک فوج، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراج تحسین پیش کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد کچہری کے دھماکے میں 12 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے، اور یہ دونوں واقعات “خارجی ہاتھ” کے واضح ثبوت ہیں۔ ان کے مطابق، “ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے گروہ افغانستان سے متحرک ہیں اور ان کے بھارت کے ساتھ روابط کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔”
انہوں نے کہا کہ افغان وزیر خارجہ کے بھارت دورے اور حالیہ سفارتی حرکات ایک واضح پیغام دیتی ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے 40 سال تک افغان عوام کی میزبانی کی، مگر آج ہمیں جس طرح دہشتگردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، وہ پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔
شہباز شریف نے واضح کیا کہ پاکستان کی ترقی اور امن دشمن عناصر کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑی جائے گی، ہماری افواج نے دہشتگردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں، اور اگر دشمن نے دوبارہ سازش کی تو پہلے سے زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور ترقی کا خواہاں ہے، مگر “جو ملک یا گروہ وفاق کو کمزور کرے، وہ پاکستان کے لیے مفید نہیں۔”
انہوں نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری پر ایوان اور اتحادی جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’’آئینی عدالت کے قیام سے جمہوریت مضبوط ہوگی، اور بے نظیر بھٹو کی روح آج خوش ہوگی۔‘‘
مزید برآں، وزیراعظم نے معروف دانشور عرفان صدیقی کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ “وہ استادوں کے استاد تھے، جنہوں نے ن لیگ کے ساتھ ہمیشہ وفاداری نبھائی۔”
شہباز شریف نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ “ہم دشمن کو بتا دینا چاہتے ہیں، پاکستان اب کمزور نہیں، متحد ہے، اور اپنی ترقی کی راہ میں کسی دہشتگرد یا خارجی ہاتھ کو حائل نہیں ہونے دے گا۔”

