لندن: آکسفورڈ یونیورسٹی میں ہونے والے پاک بھارت مباحثے میں پاکستانی طلبہ نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے دو تہائی اکثریت سے کامیابی حاصل کرلی۔ مباحثے کا موضوع تھا کہ ”بھارت کی پاکستان پالیسی واقعی قومی سکیورٹی کے لیے ہے یا عوامی جذبات کو بھڑکانے کے لیے ایک سیاسی نعرہ؟“
آکسفورڈ یونین کے موجودہ صدر موسیٰ ہراج کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے بھرپور دلائل پیش کیے، جبکہ بھارتی طلبہ مباحثے کے دوران اٹھائے گئے بنیادی سوالات کا مؤثر جواب دینے میں ناکام رہے۔ نتیجتاً پاکستانی ٹیم کو 106 ووٹ ملے جبکہ بھارتی ٹیم صرف 50 ووٹ حاصل کر سکی۔
بھارت نے ابتدائی طور پر جنرل نروا نے، ڈاکٹر سبرامنیم سوامی اور سچن پائلٹ جیسے اعلیٰ سطحی مقررین کو نامزد کیا تھا مگر انہوں نے مباحثے میں شرکت سے انکار کردیا، جس کے بعد بھارت کو نسبتاً کم درجے کے مقررین پر مشتمل پینل پیش کرنا پڑا۔
دوسری جانب، پاکستان نے بااعتماد انداز میں اپنے اعلیٰ حکومتی یا سفارتی نمائندوں کو شامل نہیں کیا بلکہ مکمل طور پر آکسفورڈ میں زیرِ تعلیم طلبہ جن میں موسیٰ ہراج، اسرار خان کاکڑ اور احمد نواز خان شامل ہیں کو نمائندگی دی۔
مباحثے کے دوران پاکستانی طلبہ نے بھارتی بیانیے کو منطق، تاریخ، قانون اور اعدادوشمار کی بنیاد پر چیلنج کیا، جس سے حاضرین واضح طور پر متاثر ہوئے۔ اگرچہ آکسفورڈ یونین میں بھارتی ارکان کی تعداد زیادہ تھی، اس کے باوجود پاکستانی نقطہ نظر بھاری اکثریت سے کامیاب رہا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، ایسے عالمی پلیٹ فارم پر پاکستانی نوجوانوں کی فتح اس بات کا ثبوت ہے کہ دلیل اور حقائق کی بنیاد پر پیش کیا گیا پاکستانی مؤقف زیادہ مضبوط، متوازن اور قابلِ اعتبار ہے، جبکہ بھارتی وفد کی کمزور دلیل اور اعلیٰ مقررین کے انکار نے ان کے بیانیے کو مزید کمزور کردیا۔

