بحیرہ عرب میں پاک بحریہ کی دھاک؛ مقامی سطح پر تیار کردہ کروز میزائل ‘تیمور’ کا کامیاب تجربہ

راولپنڈی: پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں ایک اور بڑے اور تاریخی اضافہ، پاک بحریہ نے مقامی سطح پر تیار کردہ جدید ترین اینٹی شپ ویپن سسٹم ’’تیمور‘‘ ائیر لانچڈ کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، فضا سے سطحِ سمندر پر مار کرنے والے اس کروز میزائل نے اپنے مشن کے دوران ہدف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنا کر اپنی آپریشنل تیاریوں کا طاقتور مظاہرہ کیا ہے۔

عسکری ماہرین کے مطابق، ‘تیمور’ میزائل کی شمولیت سے سمندری حدود میں دشمن کے خطرات کا کھوج لگانے اور انہیں سیکنڈوں میں ناکارہ بنانے کی صلاحیت میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ لائیو ویپن فائرنگ تجربہ قومی دفاعی خود انحصاری کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس سے مسلح افواج کی روایتی جنگی میدان میں کثیر الجہتی اور مربوط ضرب لگانے کی قوت کو مزید تقویت ملی ہے۔ یہ میزائل طویل فاصلے تک دشمن کے بحری اہداف کو تلاش کرنے اور مؤثر انداز میں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پاک بحریہ نے اس موقع پر اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ملک کے بحری مفادات اور علاقائی پانیوں کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہے اور کسی بھی جارحیت کا دندان شکن جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

اس عظیم کامیابی پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سمیت تینوں مسلح افواج کے سربراہان نے متعلقہ سائنسدانوں اور انجینئرز کو مبارکباد پیش کی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ مقامی سطح پر اس قدر جدید ٹیکنالوجی کی تیاری پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کی جانب ایک بڑا سنگ میل ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ‘تیمور’ میزائل کا کامیاب تجربہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے کی صورتحال بدل رہی ہے، اور یہ پاکستان کی سمندری سرحدوں کے گرد ایک مضبوط حفاظتی حصار ثابت ہوگا۔