لندن: برطانوی جریدے "فنانشل ٹائمز” نے اپنی ایک حالیہ تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب گارڈز (IRGC) کی ایرو اسپیس فورس نے چینی جاسوس سیٹلائٹ “TEE-01B” کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں اور حساس تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، یہ سیٹلائٹ 2024 کے اواخر میں چین سے خلا میں بھیجے جانے کے بعد ایران کے حوالے کیا گیا تھا، جس کی ہائی ریزولوشن صلاحیت (تقریباً نصف میٹر) نے ایران کو اہداف کی درست شناخت اور حملوں کی مؤثر منصوبہ بندی میں غیر معمولی مدد فراہم کی۔
ایرانی فوجی کمانڈرز نے اس جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس کی 13 سے 15 مارچ کے درمیان تصاویر حاصل کیں، جس کے فوراً بعد 14 مارچ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی تھی کہ اس اڈے پر امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ اس چینی سیٹلائٹ نے نہ صرف سعودی عرب بلکہ اردن کے موافق السالتی ایئر بیس، بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کے قریبی مقامات، عراق کے اربیل ایئرپورٹ، کویت کے کیمپ بیوہرنگ اور علی السالم ایئر بیس سمیت جبوتی اور عمان کی اہم فوجی تنصیبات کی بھی مسلسل نگرانی کی۔
صرف فوجی اڈے ہی نہیں، بلکہ خلیجی ممالک کا سویلین انفراسٹرکچر بھی ایران کی نظروں میں رہا، جس میں متحدہ عرب امارات کی خورفکن بندرگاہ، قیدفہ پاور پلانٹ اور بحرین کی البا ایلومینیم فیکٹری شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق، ایران کا سابقہ سیٹلائٹ سسٹم "نور-3” صرف 5 میٹر ریزولوشن تک محدود تھا، لیکن اس نئے سسٹم نے ایران کی فضائی جاسوسی کی صلاحیت کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔
اسٹریٹجک ذرائع کے مطابق، ایران نے اس سیٹلائٹ سسٹم، لانچنگ اور تکنیکی معاونت کے لیے تقریباً 36.6 ملین ڈالر ادا کیے ہیں، جس میں چینی کمپنیوں ‘ارتھ آئی’ (Earth Eye Co) اور ‘ایمپوسیٹ’ (Emposat) کا کلیدی کردار رہا ہے۔
اگرچہ یہ رپورٹ بین الاقوامی سطح پر تشویش کا باعث بن رہی ہے، تاہم چین نے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ وہ غیر مصدقہ معلومات پھیلانے کی مخالفت کرتے ہیں اور چین نے ہمیشہ خطے میں امن کے فروغ کے لیے کام کیا ہے۔
یہ انکشافات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے اہم سفارتی کوششیں جاری ہیں، اور یہ رپورٹ ان مذاکرات پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

