اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے اسلام آباد میں ہونے والے تاریخی امریکہ ایران مذاکرات کی عالمی کوریج کے لیے کیے گئے انتظامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے غیر ملکی صحافیوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے ہیں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے اعلان کے مطابق، امریکہ اور ایران سمیت دنیا بھر سے آنے والے صحافیوں کو ‘ویزا آن ارائیول’ کی سہولت دی جا رہی ہے تاکہ وہ اس اہم سفارتی ایونٹ کی کوریج بلا تعطل کر سکیں۔
وزیر اطلاعات کے مطابق، اب تک چین، سعودی عرب، جاپان، جرمنی، اور کوریا سمیت مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 50 صحافی پاکستان پہنچ چکے ہیں، جبکہ مزید درخواستوں پر تیزی سے عمل درآمد جاری ہے تاکہ بین الاقوامی میڈیا کو اس تاریخی موقع کی رپورٹنگ میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔
عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ وزارتِ اطلاعات و نشریات نے جناح کنونشن سینٹر میں ایک جدید ترین میڈیا سینٹر قائم کیا ہے جہاں غیر ملکی صحافیوں کو ایک ہی چھت تلے تمام ضروری سہولیات مہیا کر دی گئی ہیں۔
اس میڈیا سینٹر میں ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ، کمپیوٹرز، پرنٹرز اور بڑی اسکرینز نصب کی گئی ہیں تاکہ صحافی اپنے پیشہ ورانہ امور عالمی معیار کے مطابق انجام دے سکیں۔
چونکہ جناح کنونشن سینٹر ریڈ زون کے قریب واقع ہے، اس لیے یہاں سے مذاکراتی عمل کی کوریج کرنا صحافیوں کے لیے نہ صرف آسان ہے بلکہ سیکیورٹی کے حوالے سے بھی یہ مقام انتہائی محفوظ ہے۔
حکومت کی جانب سے تمام غیر ملکی نمائندگان کو خصوصی کارڈز بھی جاری کیے گئے ہیں تاکہ ان کی نقل و حرکت اور کوریج کے عمل کو شفاف اور منظم بنایا جا سکے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ان تمام سہولیات کا مقصد پاکستان کے مثبت اور ‘امن ساز’ (Peace Maker) تشخص کو دنیا بھر میں اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوریج کے لیے آنے والے تمام غیر ملکی صحافیوں کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا جاتا ہے اور حکومت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ انہیں قیام و طعام اور پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران کسی بھی قسم کی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
عالمی میڈیا کی اتنی بڑی تعداد میں آمد اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات کو مشرقِ وسطیٰ کے امن کے لیے کلیدی قرار دے رہی ہے اور پاکستان اس ضمن میں ایک بہترین میزبان کے طور پر اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے۔

