اسلام آباد مذاکرات: وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی اہم ملاقات

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف سے امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے وزیراعظم ہاؤس میں ایک تاریخی ملاقات کی ہے، جس میں دوطرفہ تعلقات سمیت اہم علاقائی امور اور ایران امریکہ جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والی تازہ ترین صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، امریکی وفد میں نائب صدر کے ہمراہ خصوصی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی موجود تھے، جبکہ پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر داخلہ سینیٹر محسن رضا نقوی نے ملاقات میں شرکت کی۔

وائٹ ہاؤس نے بھی اس ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے اسے خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔ ملاقات کے دوران دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کا خاتمہ عالمی معیشت اور انسانیت کے وسیع تر مفاد میں ہے، اور اس مقصد کے لیے دونوں ممالک مل کر کام کرتے رہیں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی اور ایرانی وفود کی جانب سے تعمیری اور مثبت انداز میں مذاکرات میں شرکت کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد مذاکرات خطے میں پائیدار اور دیرپا امن کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر اپنی سہولت کاری جاری رکھنے کے لیے مکمل پرعزم ہے تاکہ دہائیوں پر محیط تنازعات کا کوئی مستقل حل نکالا جا سکے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انہیں پوری امید ہے کہ یہ بات چیت دونوں اطراف کے درمیان اعتماد کی فضا کو بحال کرے گی اور مستقبل میں تعاون کے نئے راستے کھولے گی۔

جے ڈی وینس نے اس موقع پر پاکستان کی سفارتی کوششوں اور وزیراعظم کی مدبرانہ قیادت کی تعریف کی، جس نے ناممکن کو ممکن بناتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لا کھڑا کیا ہے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ملاقات کے دوران خطے میں امن، معاشی استحکام اور باہمی تعاون کے امکانات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان عالمی امن کے لیے اپنا مخلصانہ کردار ادا کرتا رہے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ مذاکرات کے ثمرات خطے کے عام آدمی تک پہنچ سکیں۔

سفارتی ماہرین کے مطابق، امریکی نائب صدر اور جیرڈ کشنر جیسے بااثر افراد کی پاکستان آمد اس بات کا ثبوت ہے کہ واشنگٹن اسلام آباد کے ثالثی کردار کو انتہائی اہمیت دے رہا ہے۔

یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پوری دنیا کی نظریں اسلام آباد پر جمی ہیں اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہاں ہونے والے فیصلے مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی نقشے پر دوررس اثرات مرتب کریں گے۔