پاک بحریہ کا شمالی بحیرہ عرب میں بڑا ریسکیو آپریشن، 18 غیر ملکیوں کی جان بچا لی

کراچی: پاک بحریہ نے شمالی بحیرہ عرب میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایک انتہائی پیچیدہ اور کامیاب سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کرتے ہوئے 18 افراد پر مشتمل غیر ملکی عملے کو بحفاظت بچا لیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، پاکستانی ساحل سے تقریباً 200 ناٹیکل میل جنوب میں موجود تجارتی بحری جہاز "ایم وی گولڈ آٹم” سے ہنگامی سگنل موصول ہوئے تھے، جس پر پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی (PMSA) نے فوری طور پر اپنے ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر کو فعال کر دیا۔

اطلاع ملتے ہی سمندری حدود کی نگرانی پر مامور پاک بحریہ کے جدید جہاز "پی این ایس حنین” کو امدادی کارروائی کے لیے روانہ کیا گیا، جس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر انتہائی پیشہ ورانہ مہارت اور تجربے کا مظاہرہ کیا۔

ریسکیو کیے گئے افراد میں چین، بنگلہ دیش، میانمار، ویتنام اور انڈونیشیا کے شہری شامل ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، تجارتی جہاز پر لگی آگ بجھانے میں پاک بحریہ کے ماہرین نے بھرپور معاونت فراہم کی اور جہاز کو پہنچنے والے نقصانات کا تفصیلی جائزہ لیا۔

پی این ایس حنین پر موجود طبی ٹیم نے متاثرہ عملے کو فوری طبی امداد فراہم کی اور انہیں بحفاظت نکال کر کراچی منتقل کر دیا گیا، جہاں سے انہیں اپنے اپنے ممالک واپسی کے لیے ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

پاک بحریہ کی جانب سے سمندر میں کی جانے والی یہ بروقت کارروائی اس عزم کی عکاس ہے کہ پاکستانی بحریہ اپنی ذمہ داری کے دائرہ کار میں کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ‘فرسٹ ریسپانڈر’ کے طور پر ہمیشہ تیار اور پرعزم ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے شمالی بحیرہ عرب میں غیر ملکی عملے کو بحفاظت ریسکیو کرنے پر پاک بحریہ کے افسران اور جوانوں کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پی این ایس حنین کا فوری ردعمل اور پیشہ ورانہ مہارت قابلِ فخر ہے، جس نے پانچ ممالک کے شہریوں کی جانیں بچا کر عالمی سطح پر پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاک بحریہ سمندری دفاع کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ انسانی ہمدردی کے کاموں میں بھی ہمیشہ ہراول دستے کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔

ماہرینِ دفاع کے مطابق، پاک بحریہ میں "خیبر” جیسے جدید جنگی جہازوں کی شمولیت اور پی این ایس حنین جیسے جہازوں کی آپریشنل صلاحیت نے پاکستان کے سمندری دفاع اور ریسکیو نظام کو مزید مستحکم کر دیا ہے۔