دنیا بڑے سانحے کے قریب پہنچ چکی تھی، صدر مملکت کا شرپسند عناصر سے ہوشیار رہنے اور پائیدار امن کی راہ اپنانے پر زور

اسلام آباد: صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک انتہائی اہم اور بروقت اقدام قرار دیا ہے جس نے دنیا کو ایک بڑے ممکنہ سانحے سے بچا لیا ہے۔

اپنے خصوصی بیان میں صدر زرداری نے کہا کہ جب دنیا تباہی کے بالکل قریب پہنچ چکی تھی، تب پاکستان نے خطے اور پوری انسانیت کے وسیع تر مفاد میں نیک نیتی کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے کام کیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ امن، سلامتی اور معاشی استحکام باہم جڑے ہوئے خطوں کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ناگزیر ہیں اور پاکستان کو فخر ہے کہ اس نے دانشمندی اور غیر متزلزل وابستگی کے ساتھ اس نازک مرحلے پر عالمی قیادت کا کردار ادا کیا۔

صدر نے تمام فریقین کو شرپسند عناصر کی سازشوں سے ہوشیار رہنے اور مستقل بنیادوں پر امن کی راہ اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

صدرِ مملکت نے قیامِ امن کے لیے کی جانے والی انتھک سفارتی کاوشوں پر وزیراعظم شہباز شریف، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی قیادت کو بھرپور سراہا۔

انہوں نے کہا کہ ان رہنماؤں کے مسلسل سفارتی رابطوں نے کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ میں تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ صدر نے ایران اور امریکہ کی قیادت کی بھی تعریف کی جنہوں نے تباہی کے دہانے سے پیچھے ہٹ کر حقیقت پسندی اور مدبرانہ قیادت کا مظاہرہ کیا اور تصادم کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے نتائج کے لیے سیاسی عزم اور لچک کا ہونا ضروری ہے جو اس مفاہمت کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دینے اور تعمیری کردار ادا کرنے پر برادر ممالک چین، روس، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کی کوششوں کو سراہا جنہوں نے سفارت کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں مدد کی۔ صدر نے زور دیا کہ یہ جنگ بندی خطے کے لیے ایک اہم موقع ہے کہ وہ بڑی جنگ کے سائے سے باہر نکل کر بحالی کی جانب بڑھے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان جنگ بندی کو مستقل بنانے کے لیے اعتماد سازی کے تمام اقدامات اور پرامن حل کی حمایت جاری رکھے گا تاکہ خطے میں پائیدار استحکام اور باہمی احترام کو فروغ مل سکے۔ ان کے مطابق دنیا بھر کے عوام کی دعائیں امن کی اس مشترکہ انسانی خواہش کی عکاسی کرتی ہیں جسے اب ہر صورت برقرار رکھا جانا چاہیے۔