اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور امریکہ و ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کو یقینی بنانے میں پاکستان کے کلیدی کردار پر ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور حکومتی رہنماؤں نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے اپنے بیانات میں کہا کہ وزیراعظم اور آرمی چیف کی دانشمندانہ حکمت عملی نے ایک بڑی عالمی تباہی کو ٹال دیا ہے اور خطے میں امن کے لیے پاکستان کی یہ کاوشیں تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔
وفاقی وزراء اویس لغاری، شزا فاطمہ خواجہ اور عبدالعلیم خان نے اس کامیابی کو ‘اعلیٰ درجے کی سفارت کاری’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام نے عالمی سطح پر پاکستان کو ایک ذمہ دار اور باوقار ریاست کے طور پر منوایا ہے، جبکہ رانا مشہود احمد خان نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی فعال سفارت کاری اور فیلڈ مارشل کی اسٹریٹجک رہنمائی کو اس فتح کا اصل محرک قرار دیا۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کو ایک ‘قابلِ فخر سنگ میل’ قرار دیتے ہوئے واشنگٹن، تہران اور اسلام آباد کی قیادت کو مبارکباد پیش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ بندی محض ایک عارضی وقفہ نہیں بلکہ خطے میں پائیدار امن، تعاون اور مشترکہ خوشحالی کی بنیاد بنے گی۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے بھی اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو اس وقت تباہی کی نہیں بلکہ مکالمے کی ضرورت ہے اور پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ دانشمندی سے مشکل ترین مسائل کا حل ممکن ہے۔
نگران وزیراعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس (ر) یار محمد نے بھی وزیراعظم سے ملاقات میں اس عظیم سفارتی کامیابی پر پوری قوم کی جانب سے مبارکباد پیش کی، جس سے عالمی مالیاتی منڈیوں میں پاکستان کی ساکھ کو مزید تقویت ملی ہے۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے ایوان میں اپنے خطاب کے دوران ایک غیر متوقع اور تاریخی اعلان کرتے ہوئے حکومت کی غیر مشروط حمایت کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ "اس تاریخی کامیابی پر جو خوش نہ ہو وہ پاگل ہی ہوگا” اور واضح کیا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود وہ اس قومی معاملے پر حکومت اور پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انا اور ایران کے ڈٹ جانے کے تناظر میں پاکستان کے مصالحتی کردار کو آسمان سے آئی ہوئی نعمت قرار دیا اور تمام اکابرین کو مل بیٹھ کر مشاورت کی تجویز دی۔
محمود خان اچکزئی نے ملک میں داخلی استحکام کے لیے بانی پی ٹی آئی سے مذاکرات پر بھی زور دیا تاکہ ملکی مقبولیت اور اس عالمی کامیابی کو یکجا کر کے پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔
تمام سیاسی حلقوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے آئندہ مذاکرات خطے کے لیے مزید مثبت خبریں لے کر آئیں گے۔

