وزیراعظم شہباز شریف کی صدر ٹرمپ سے ڈیڈ لائن میں 2 ہفتے توسیع اور ایران سے آبنائے ہرمز کھولنے کی اپیل

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی اور ممکنہ بڑے تصادم کو روکنے کے لیے ایک اہم سفارتی قدم اٹھاتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران کے خلاف دی گئی ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کی باضابطہ درخواست کر دی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک خصوصی پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے پُرامن حل کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں اور انتہائی اہم پیش رفت کے بعد جلد ٹھوس نتائج سامنے آنے کا قومی امکان ہے۔

وزیراعظم نے امریکی صدر پر زور دیا کہ بین الاقوامی سفارت کاری کو ایک آخری موقع دینے کے لیے حملوں کی ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کا اضافہ کیا جائے تاکہ خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں ایران سے بھی برادرانہ اور پرزور اپیل کی ہے کہ وہ عالمی برادری کی جانب سے کی جانے والی امن کوششوں اور جذبہ خیرسگالی کے طور پر آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دو ہفتوں کے لیے کھول دے۔

وزیراعظم کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے خطے میں جاری شدید تناؤ اور معاشی بے چینی کو کم کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔ انہوں نے تمام متحارب فریقین پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر مکمل جنگ بندی کا اعلان کریں تاکہ ‘اسلام آباد اکارڈ’ اور دیگر سفارتی منصوبوں کو کسی منطقی اور نتیجہ خیز انجام تک پہنچایا جا سکے۔

وزیراعظم کے مطابق یہ دو ہفتے کا وقفہ خطے میں طویل المدتی امن، استحکام اور مستقل حل کی راہ ہموار کرنے کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی یہ اپیل ایک ایسے نازک موقت پر سامنے آئی ہے جب امریکی صدر کی دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے میں چند گھنٹے باقی رہ گئے تھے اور دنیا بھر میں شدید خوف و ہراس پایا جا رہا تھا۔

پاکستان کی اس کوشش کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے کیونکہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان کا موقف ہمیشہ سے امن کا فروغ رہا ہے اور وہ خطے میں کسی بھی نئی جنگ کے خلاف ہے، کیونکہ اس کے اثرات نہ صرف ہمسایہ ممالک بلکہ پوری دنیا کی معیشت پر پڑیں گے۔

اب تمام نظریں وائٹ ہاؤس اور تہران کے ردعمل پر لگی ہوئی ہیں کہ آیا وہ پاکستان کی اس مخلصانہ امن اپیل پر کان دھرتے ہیں یا نہیں۔