31 مارچ کے بعد غیر قانونی مقیم افراد کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ

پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں، خاص طور پر افغان باشندوں کے خلاف 31 مارچ 2025 کے بعد سخت ایکشن لینے کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں اور افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز کو دی گئی واپسی کی آخری تاریخ میں کوئی توسیع نہیں ہوگی۔ مقررہ ڈیڈ لائن کے بعد ایسے تمام افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور انہیں ملک بدر کیا جائے گا۔

پاکستان میں بڑھتے ہوئے دہشت گرد حملوں، خصوصاً بنوں کینٹ خودکش حملے میں افغان دہشت گردوں کے ملوث ہونے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی تھی، جس کے بعد غیر قانونی مقیم افراد کے خلاف کارروائی کو ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔

وفاقی وزارت داخلہ کے مطابق، یکم اپریل 2025 سے غیر قانونی مقیم افراد اور افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز کی ملک بدری کا عمل باضابطہ طور پر شروع کر دیا جائے گا۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ رضاکارانہ واپسی کے لیے کافی وقت دیا جا چکا ہے اور اس دوران کسی کے ساتھ زبردستی یا بدسلوکی نہیں کی جائے گی۔

وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے اور یہاں رہنے والے تمام افراد کو ملکی قوانین اور آئین کا احترام کرنا ہوگا۔ اس حوالے سے واپسی کے عمل کو نظم و ضبط کے تحت مکمل کیا جائے گا اور واپس جانے والوں کے لیے خوراک اور صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔