اسلام آباد: شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومتی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات سے حاصل ہونے والی تمام رقم عوامی ریلیف کے لیے استعمال کی جائے گی۔
وزیراعظم کی زیر صدارت اہم اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس میں وفاقی وزرا عطا تارڑ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر اثرات اور حکومتی بچت اقدامات کے نفاذ کا جائزہ لیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام کے لیے پالیسی اقدامات، کفایت شعاری مہم پر پیشرفت اور اس کے ممکنہ اثرات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ حکام کو بریفنگ دی گئی کہ حکومتی اخراجات میں کمی سے حاصل ہونے والی رقوم موجودہ معاشی حالات میں عوامی ریلیف کے لیے استعمال کی جائیں گی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سرکاری اور حکومتی سرپرستی میں قائم خود مختار اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں 5 سے 30 فیصد تک بتدریج کٹوتی کی جائے گی اور اس بچت کو عوامی فلاح کے منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ کارپوریشنز اور دیگر اداروں کے بورڈ اجلاسوں میں شریک حکومتی نمائندے اب شرکت کی فیس نہیں لیں گے اور یہ رقم بھی بچت میں شامل ہوگی۔
اعلامیے کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایف بی آر کے ملازمین پر ہفتہ وار 4 دن کے کام کے اطلاق کا فیصلہ لاگو نہیں ہوگا اور وہ پہلے کی طرح اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں گے۔
وزیراعظم نے تمام پاکستانی سفارتخانوں کو ہدایت دی کہ یوم پاکستان کی 23 مارچ کی تقریبات انتہائی سادگی سے منعقد کی جائیں۔ انہوں نے سرکاری افسران، وفاقی وزرا، وزرائے مملکت اور معاونین خصوصی کے بیرون ملک دوروں پر بھی مکمل پابندی برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ کفایت شعاری اقدامات پر عملدرآمد کی نگرانی متعلقہ سیکریٹریز کریں گے اور وہ روزانہ کی بنیاد پر جائزہ کمیٹی کو رپورٹ پیش کریں گے۔

